آب و دانہ اُٹھ جانے کا کیا مطلب ہے.

ایک محاورہ ہے.آب و دانہ اُٹھ جانا
برصغیر پاک وہند میں یہ محاورہ اُس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی مر جا تا ہے.یعنی اب اُس کی روٹی پانی ختم ہو چکی.
آب، پانی۔ دانہ، کوئی بھی ایسی شے جو خوراک کے طور پر لی جائے۔ اور پرندے تو عام طور پر دانہ ہی لیتے ہیں۔ چونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آدمی کا رزق اوپر سے اترتا ہے اور اوپر والے کے ہاتھ میں ہے کہ وہ جس کو جہاں سے چاہے رزق دے۔ اور یہ سب کچھ تقدیر کے تحت ہوتا ہے اور تقدیر کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کیا خبر ہے کس کا آب و دانہ کب اٹھ جائے اور جب تک آب و دانہ ہے، اسی وقت تک قیام بھی ہے۔ جب آب و دانہ اٹھ جائے گا تو قیام بھی ختم ہو جائے گا۔یعنی خورد ونوش کو آپ ودانہ کہتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں