آنکھیں اور آئینہ

ہم فنا ہو گئے اُن کی آنکھیں دیکھ کر
نہ جانے وہ آئینہ کیسے دیکھتے ہوں گے
تشریح
اس شعر میں شاعر بڑا پریشان ہے ۔کیونکہ شاعر نے جب سے اپنے محبوب کو دیکھا ہے ۔شاعرکی نیند حرام ہو چکی ہے ۔کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتابس محبوب کی طرف دل لگا ہوا ہے ۔وہ حیران ہے کہ میں تو اس کی آنکھوں کو دیکھ کر فنا ہوں چکا ہوں شاعر پریشان ہے کہ میرا محبوب جب آئینہ دیکھتا ہوگا۔تو اُس کا اپناکیا حال ہوتا ہوگا۔
Back to Conversion Tool

اپنا تبصرہ بھیجیں