اسلام آباد دھرنےپر ایک نظر

اسلام آباد ہائیکورٹ نے راولپنڈی-اسلام آباد کے سنگم فیض آباد انٹرچینج پر جاری مذہبی و سیاسی جماعت کا دھرنا ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مذہبی جماعت کےسربراہ کو دھرنا ختم کرنےکے لیے خط لکھ دیا۔
خط میں کہا گیا کہ اگر دھرنا ختم نہ کیا گیا توقانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔
یاد رہے کہ ایک مذہبی و سیاسی جماعت ‘تحریک لبیک’ یا رسول نے فیض آباد انٹرچینج پر 13 روز سے دھرنا دے رکھا ہے، جس میں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مذکورہ مذہبی و سیاسی جماعت نے یہ دھرنا ایک ایسے وقت میں دیا جب رواں برس اکتوبر میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم منظور کی تھیں، جس میں ‘ختم نبوت’ سے متعلق شق بھی شامل تھی، لیکن بعد میں حکومت نے فوری طور پر اسے ‘کلیریکل غلطی’ قرار دے کر دوسری ترمیم منظور کرلی تھی۔

تاہم الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خلاف مذکورہ سیاسی و مذہبی جماعت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
گزشتہ روز مذکورہ درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے والوں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے تھے کہ بچے، بوڑھے، ملازمین اور طالبعلم دھرنے سے متاثر ہو رہے ہیں، دھرنا ختم کریں تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہوں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے بتایا تھا کہ دھرنے والوں سے بات چیت کے لیے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس پر علماء نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ آئندہ چند دن میں چھان بین کے بعد رپورٹ شائع کردی جائے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے بھی مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا
کہ معمولات زندگی کو بحال ہونے دیا جائے۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مذہبی جماعت کےسربراہ کو دھرنا ختم کرنےکے لیے خط لکھ دیا۔خط میں کہا گیا کہ اگر دھرنا ختم نہ کیا گیا توقانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے تھے کہ بچے، بوڑھے، ملازمین اور طالبعلم دھرنے سے متاثر ہو رہے ہیں، دھرنا ختم کریں تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہوں۔

سوال ہے کہ جب شق کی غلطی کو دور کر لیا گیا ہے .تو کیا اس طرح کا دھرنا کسی کی تکلیف یا موت کا سبب بنتا ہے تو گناہ کس کے کھاتے میں جائے گا.زرا سوچیے ضرور……….

اپنا تبصرہ بھیجیں