اس کی سخاوت تو دیکھیں.

شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص۔۔۔۔
چراغ بانتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں۔۔۔۔۔۔
اختر شمار
تشریح اس شعر میں شاعر کہتا ہے .کہ وہ جو چراغ بانٹتا پھرتا انسان تمھیں نظر آرہا ہے .یہ ایک نادان ڈاکٹر ہے جو لوگوں کی انکھوں کے غلط اپریشن کر کے بہت سے لوگوں کا نقصان کر چکا ہے .اب وہ ایک مزار پر لوگوں میں چراغ بانٹتا پھر رہا ہے . تاکہ کوئی ٹھوکر نہ کھائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں