‘امریکا کا پاکستان کی فوجی امداد روکنے کا فیصلہ…………

گذشتہ روزٹوئٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ‘امریکا نے گزشتہ 15 برس میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد کی آڑ میں دیے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا’۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ‘پاکستان نے ہمارے حکمرانوں کو بے وقوف سمجھا، جن دہشت گردوں کو ہم افغانستان میں ڈھونڈتے رہے پاکستان نے انہیں محفوظ پناہ گاہیں دیں

اس کے جواب میںوزارت کےترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی امداد کی بندش سے پاکستان کی مالی ضروریات متاثر نہیں ہوں گی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے تعاون کا جائزہ لے رہی ہے۔

مذکورہ عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ، ‘صدر یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ امریکا، پاکستان سے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے اور جنوبی ایشیاء سے متعلق حکمت عملی میں پاکستان کا کردار ہمارے تعلقات کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس میں مستقبل کی سیکیورٹی معاونت بھی شامل ہے’۔
یاد رہے کہ 2016 میں امریکی کانگریس نے پاکستان کے لیے 1.1 ارب ڈالر کا امداد پیکج منظور کیا تھا اور مذکورہ رقم اسی پیکج کی ایک قسط ہے۔
وزارت خزانہ نے امریکا کی جانب سے 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر امداد روکے جانے سے آگاہ کرنے کی تصدیق کردی ہے۔

اس بیان کے جواب میں وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تہذیب کے دائرے میں رہ کر بے لاگ بات چیت کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کو نہ صرف اپنی سہولیات فراہم کیں بلکہ اس کے عوض کوئی معاوضہ بھی نہیں مانگا کیونکہ ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

خرم دستگیر نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بات طے پائی کہ اگر امریکا اور پاکستان اکھٹے مل کر اور باہمی تعاون سے افغانستان میں امن کے لیے جدوجہد کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے تو زیادہ بہتر کامیابیاں حاصل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنی منفی بیان بازی کے ذریعے اہداف حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں