اُردو ادب اور ہم

معززقارئین
جیسے جیسے ہم نیٹ کے زریعے دنیا سے جڑتے جارہے ہیں ۔دنیا سے بہت کچھ سیکھ بھی رہے ہیں مثلاً صحت کی طرف لوگوں نے توجہ دینا شروع کر دی ہے ۔جس کے لیے جم خانے بنائے جا رہے ہیں اس طرح لوگ اپنی صحت کی بقا کے لیے کوشاں ہیں یہ ایک بہت اچھا قدم ہے ۔اس ویب سائیٹ کے زریعے ہم ایسے موضوع چنتے رہے گے اور ان پر بات کریں گے ۔مگر آج ہمار اموضو ع اُردو زبان ہے ۔ہمیں اس بات کو ماننا پڑیگا کہ اگر ہم دنیا کی صف میں ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔تو ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اُردو اداروں کو ترجیح دینا ہو گی ۔ اپنی زبان میں بچوں کو تعلیم دینا ہو گی ورنہ بہت کم شرح پر بچے آگے بڑھ سکیں گے ۔اگر ہم اس سلسلے میں جاپان اور چائنا کی کو مدنظر نہ رکھیں تو ہم خود سے زیادتی کریں گے ۔ ان ملکوں نے دنیا میں کامیابی کے جو جھنڈے گاڑ ے ہیں ۔اس کے پیچھے یہی منطق کا م کر رہی ہے کہ وہ اپنی زبان کو ترجیح دیتے ہیں ۔اور اپنی زبان میں بچوں کی تعلیم وتربیت کر رہے ہیں ۔اور اس وقت ہماری حیثیت صرف یہ ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔جو طرزتعلم ہمارے ہاں رواج پا رہا ہے ۔آپ کو نئے شاعر اور ادیب کالم نگار افسانہ نگار ناول نگارمسقبل میں ملنے مشکل ہو جائیں گے۔کیونکہ سکولوں میں انگریزی تعلیم کے باعث اور گھریلو کیبل اور نیٹ کے باعث بچے اردو ادب سے دور ہو رہے ہیں ۔پہلے ہمارے دور میں اخبار سے رسالوں سے لوگ معلومات حاصل کرتے تھے ۔اور مغربی معاشرہ آج بھی کتاب کی افادیت کو نہیں بھولا ۔آج بھی لائیبریری کی افادیت کو نہیں بھولا ۔وہاں آج بھی آپ کو لوگوں کے ہا تھ میں کتاب نظر آئے گی ۔مگر ہمارے یہاں اس بات کا فقدان ہے ۔
اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی نئی نسل کو اُردو ادب سے روشناس کرانے کے لیے ہم اس ویب سائیٹ کے زریعے کوشاں رہیں گے ۔جس میں اُ رد ادب کے ساتھ گرائمر پر بھی بھر پور توجہ دیں گے ۔جو اردو زبان کی خدمت کے سلسلے کی ایک ادنیٰ کوشش ہو گی ۔
Back to Conversion Tool

اپنا تبصرہ بھیجیں