اِبن انشاء

پھر سے آنکھوں میں خواب انشاء جی
اجتناب، اجتناب، اجتناب انشاء جی
اس کو مارے گئے ہیں کیوں پتھر؟
جس نے پھینکے گلاب انشاء جی
درد ہی ہے وفا کا بدلہ کیا؟
کیا یہی ہے ثواب انشاء جی؟
ڈوبتا جا رہا ہے دل میرا
کچھ تو کیجے جناب انشاء جی
بن ترے دوسرا کوئی دیکھیں
کب ہے آنکھوں میں تاب انشاء جی
تیری چاہت میں مر رہا ہے یہاں
ایک خانہ خراب انشاء جی
ہو سکے گر تو بھول کر اس کو
بند کیجے یہ باب انشاء جی

اپنا تبصرہ بھیجیں