اپنے حصے کا دیا جلا نا ہو گا.

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا۔
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلا نا ہو گا
تشریح
ان اشعار میں شاعر کہتا ہے ۔ کہ قوم کو جہالت سے نکالنا کسی ایک انسان کی زمہ داری نہیں ہے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم میں شعور بیدار ہو۔تو صرف سوچنے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔اس کے لیے ہر انسان کو اپنا کردار معاشرے میں ادا کرنا ہوگا۔یعنی جاہل معاشرے کو برا بھلاکہنے سے ہمیں کچھ نہیں ملے گا۔ہر ایک کو اپنے حصے کا دیا خود ہی جلا نا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں