ا ضطراب کی کوئی وجہ ہوتی ہے

یہ واقعہ داستانِ عبرت کے طورپرپیش خدمت ہے ،ضروری نہیں کہ ہمارے اضطراب کی وجہ بھی کوئی ایسی ہو،لیکن اپنے اضطراب کوختم کرنے کے لئے اس واقعہ سے سبق حاصل کیاجاسکتاہے ۔
برڈ سال کہتاہے کہ یہ ان دنوں کی داستان ہے،جب میں ورجیناکے ملٹری کالج کا طالب علم تھا،گومیں ایک ذہین نوجوان تھا،اورکالج کے رسالے کاچیف ایڈیٹرتھا،تاہم میرے اضطراب اورپریشانیوں کی کوئی حدنہ تھی۔مجھے کوئی نہ کوئی عارضہ لاحق رہتاتھا،حتیٰ کہ میری حالت اتنی بگڑی کہ کالج کے ہسپتال کے ایک گوشے میں میرابسترلگادیاگیا۔جب بھی مجھے تکلیف ہوتی مجھے وہاں لٹادیاجاتااوربطوران ڈورمریض میراعلاج شروع کرد یا جا تا۔
میں ہسپتال کے عملے میں اتنامشہورہوگیا،کہ ایک دفعہ کسی کام کے لئے ڈاکٹرسے ملنے گیاتونرس مجھے دیکھتے ہی بھاگی اورکہا،مسٹربرڈ سال تمہارابستر تیارہے ،سیدھے چلے آؤ۔آپ یہ جانناچاہیں گے ،کہ میں اتناپریشان اوربیمارکیوں تھا۔دراصل مجھے خود اس کی وجہ معلوم نہ ہوئی تھی،بظاہرصرف ایک بات میری مرضی کے خلاف ہوئی تھی یعنی میں طبیعات میں فیل ہوگیاتھا،لیکن میں اپنے آپ کوحق پرسمجھتاتھااورہمیشہ یہ رائے قائم رکھتاتھاکہ اس کے مضامین میں طبیعات کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔
تاہم کوئی غم مجھے اندرہی اندرسے کھائے جارہاتھا،میں نہ صرف پریشان بلکہ کمزورہونے لگا،میں ایک لڑکی سے محبت کرتاتھا،مگرذہنی تکلیف اورمالی حالات کی وجہ سے اس قابل نہ تھا،کہ محبوبہ کوکوئی گفٹ وغیرہ دے سکتا،میرے پاس اتنی رقم نہ تھی،کہ ملاقات کے دوران اسے کینڈی ہی پیش کروں،میں مزید
غم زدہ ہوگیاکیایہ لڑکی مجھے چھوڑدے گی،کیامیں اپنی محبوبہ سے محروم ہوجاؤں گامجھے ان مسائل کاحل معلوم نہ تھا،بلکہ صحیح یہ کہ مسائل کی وجہ کوپوری طرح نہ سمجھ سکاتھا،میں نے پروفیسربیرڈ سے مشورہ کیااس نے کہادیکھوبرڈ سال تم اپنے مسائل پرغورکرو۔
تمہارے مسائل تین طرح ہیں ۔
صاف اورواضح طورپرمعلوم کروکہ تمہاری پریشانی کیاہے ۔
۱۔ اپنے مسئلے کی وجہ معلوم کرو۔
۲۔ مسئلے کوحل کرنے کی خاطرکوئی تعمیری کام کرو۔میں نے مسئلے کی وجہ معلوم کی،میری پریشانی اس دن سے شروع ہوئی تھی جس دن میں طبیعات کے مضمون میں فیل ہوگیاتھا،میں نے حقائق سے گریزکامصنوعی غلاف چڑھارکھاتھا،کہ اس مضمون کی ضرورت ہی نہ تھی،میں نے اپنے آپ کوسمجھایاکہ یہ حقیقت ہے کہ طبیعات اس کورس کا حصہ ہے ، اورڈگری صرف اس صورت میں مل سکتی ہے کہ میں طبیعات کے پرچے میں پاس ہوجاؤں چنانچہ میں نے سال بھرطبیعات کوتندھی سے پڑھااوراچھے نمبروں سے پاس ہوگیا۔
اب مسئلہ مالی پریشانیوں کاتھا،میں نے اپنے والد سے ادھاررقم منگوالی ، اورفالتو اوقات کے دوران مجھے کام مل گیا،جس سے مجھے ہرہفتے معقول رقم ملنے لگی،اب میں اپنی محبوبہ کوگفٹ بھی دیتا،اورمشروبات کینڈی وغیرہ سے اس کی خدمت کرتا،وقت گزرنے کے ساتھ میری پریشانیاں دورہوگئی، میں نے اچھے نمبروں پرڈگری حاصل کی،اوراپنی محبوبہ کو شادی کاپیغام دے دیا۔جوقبول کرلیاگیا۔
کہانی کاخلاصہ یہ ہے کہ برڈ سال نے اپنی پریشانیوں کاتجزیہ کیا۔وجہ معلوم کی، اور تعمیری پروگرام پرعمل کیااورکامیابی نے اس کے قدم چومے ۔