برے حالات سے سجھوتہ کرنا

بن فور سٹارریاست جار جیا کا وزیر خارجہ ہے مگر دونوں ٹانگوں سے محروم ہونے کی وجہ سے پہیوں والی کرسی پر دفتر آتا ہے ،اجلاس منعقد کر تا ہے ،اور ضرورت پڑنے پر اسی حالت میں عوام سے خطاب کر تا ہے ،ایک دن اس سے کسی نے پوچھا کہ آپ ٹانگیں ضائع ہو جانے کا افسوس تو نہیں ۔وہ بولا کیسا افسوس اگر میری ٹانگیں نہ کٹتی تو میں اس مقام پر نہ ہو تا ،میں زیادہ سے زیادہ اوسط درجے کا کسان رہتا ،انہوں نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا ،کہ ان کی عمر ستائیس سال تھی۔ وہ فارم سے گھر ٹرک پر آرہے تھے ،کہ ٹرک درخت سے ٹکرا گیا ،اور ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں ،ڈاکٹروں نے زندگی بچانے کے لیے ٹانگیں کاٹ دیں ،اب دنیا ان کے سامنے اندھیر تھی ،وہ پہیوں والی کرسی پر فارم جانے لگے ۔
اس دوران انہوں نے محسوس کیا ،کہ لوگ اسی دوران ان سے عزت سے پیش آنے لگے ،وہ اپنا زیادہ وقت لائبریریوں میں بسر کرنے لگا ،جہاں انہوں نے تاریخ اور سیاست پر ہزاروں کتابیں پڑھ ڈالیں ۔لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ اپنے جسمانی نقائص کی پر واہ نہ کرتے ہوئے خار زار سیاست میں قدم رکھ چکے تھے یہاں کامیابی نے ان کے قدم چومے اور وہ ترقی کرتے کرتے ریاستی و زیر کے رتبے تک پہنچ گئے ۔
آپ کاکیا خیال ہے کہ اسے ٹانگیں ٹوٹنے کے بعد چار پائی پر لیٹنا چاہیے تھا ،یا اس نے جو کیا بہتر تھا ،اگر وہ معذور ہو کر چار پائی پر کا ہو کر رہ جاتا تو اس کا مستقبل وہ اچھا تھا ،یاہمت سے بھرا ہوا وزیر خارجہ کا روپ ۔اپنی منفی زندگی کے پہلو کو بھول کر اَن تھک محنت کریں۔ اور اپنے پسندیدہ شعبے میں کامیابی حاصل کریں یہ پسندیدہ مشعلہ آپ کو ساری تھکی ہاری سوچیں بھولنے پرمجبور کرے گا۔
ٹالسٹائی کی ازواجی زندگی درد ناک تھی لیکن اس نے منفی پہلو نظراندازکرکے ایساادب تحریر کیاکہ نہ صرف وہ دنیابھرمیں مشہورہوا۔بلکہ زندگی کی آخری دس سالوں میں کم از کم بیس لوگ روانہ آکر اس کے ہاتھ چومتے تھے ۔
ایک مشہور وائلن نوازپیرس کے اہم اجتماع میں وائلن بجارہاتھا،لوگ مسحورہوچکے تھے،کہ اچانک وائلن کاتارنمبراے ٹوٹ گیالیکن وہ پریشان نہ ہوئے۔انہوں نے باقی ماندہ تین تاروں کابہترین استعمال کیاوراپنانغمہ جاری رکھا،ہنری امیرس فوسڈک تحریرکرتے ہیں کہ مزاتواسی میں ہے کہ زندگی کاوائلن کاتارAٹوٹ جائے پھربھی زندگی رواں دواں رکھی جائے ۔
ایلزبتھ کونلے پورٹ لینڈ(اورگن)کواپنے بھتیجے سے اتنی محبت تھی،کہ اگراس کاکوئی بیٹاہوتا،توشاید اس سے اتنی محبت نہ ہوتی،وہ فوج میں بھرتی ہوااورایک دن اس کی موت کاتارمل گیا،ایلزبتھ کونلے کادنیامیں کوئی رشتہ دارنہ تھا،اس لئے اس پرغم کاپہاڑ ٹوٹ پڑاوہ غم کی گہرائیوں میں اس قدرڈوب گئی۔کہ زندگی اب اس کے لئے بے معنی تھی وہ اسے ختم کرنے کے متعلق سوچنے لگی۔اس نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔
وہ ایک دن میزصاف کررہی تھی کہ اسے بھتیجے کونلے کاپراناخط ملا،جوکسی وقت پڑھے بغیررکھ کربھول گئی تھی، لکھا تھا کہ جب وہ فوج میں آیاتھا،تواس کی (چچی ) سے دوری کے باعث زندگی بے معنی اوربے عبث محسوس ہوتی تھی لیکن اس دوران اسے کو نلے چچی کی نصیحت یادآئی کہ جہاں بھی رہو۔مصائب کامردانہ وارمقابلہ کرواوربدسے بدترحالات سے سمجھوتہ کرلو۔بلکہ ان سے تعاون کرو۔
ایلزبتھ کونلے کو محسوس ہواکہ وہ جس چیزکی نصیحت بھتیجے کوکرتی رہی۔ اپنی باری آنے پراسے بھلابیٹھیں اورسارے غم دماغ میں سمالئے،انہوں نے اپنادرس یادکیا،جوبھتیجے کودیاتھایعنی برے حالات سے تعاون کرنا،انہوں نے اپنااستعفیٰ واپس لے لیا،اورزندگی کی مسرتوں اوردلچسپیوں میں واپس چلی گئیں ،بڑے سے بڑے تاجراورصنعت کار جن میں مسٹرجے سی پینی کے ٹی کیلراورہنری فورڈ شامل ہیں ان سے سوال کیاگیاجب انہیں ایسے حالات پیش آئے،جن پران کاکنٹرول نہ تھالیکن انہیں نقصان پہنچاگیاتوان کاردعمل کیاتھا،کیاوہ پریشان ہوئے کہا،وہ غم زدہ ہوئے توجواب اسی قسم کاتھا،کہ جب حالات پرکنٹرول نہیں تھا۔جب ان کے نتیجے میں نقصان پہنچاتوغم کس بات کاتھا،انجام سے سمجھوتہ کرلیاگیا،اورسب کچھ بھلادیاگیا۔
ولیم ،ایچ،کاسلیٹس امریکہ میں بسکٹ فروشی کیاکرتاتھا،کہ اسے فوج میں بھرتی ہوناپڑا،اس کاعہدہ سپروائزرکاتھا،اس کے ماتحت پانچ ملازم تھے،جن کی ڈیوٹی یہ تھی کہ جہازکے گودام سے ایک ٹن وزنی کنستربحری جہاز پرلاد دیں ،ظاہرہے اتنابڑاوزن صرف رسوں کی مدد سے گودام سے اٹھاکرجہازکے عرشے پررکھاجاتاتھا، مسٹرولیم کوبتایاگیاکہ ان میں بم بھرے ہیں ،مسٹرولیم یہ ذمہ داری سنبھالنے سے پیشترایک معمولی بسکٹ فروش تھا،جس کومیدان جنگ سے کوئی واسطہ نہ تھا۔
جب ایک ٹن وزنی کسنتررسوں کی مدد سے اوپر اٹھایاجارہاتھاتواس نے سوچا خدانخواستہ اگر رسہ ٹوٹ جائے توکیاہوگا،کتنا بڑادھماکہ ہوگاجس میں اس کے اور پانچ ملاحوں کے پرخچے اڑجائیں گے۔یہ خیال آتے ہی وہ خوف سے پسینہ پسینہ ہوگیا۔کیاوہ بھاگ جائے، اس نے اپنے آپ سے سوال کیا،یہ آسان نہ تھا،اگر پکڑا جاتا تو اسے گولی مار دی جاتی ۔
اب اس نے تصورمیں تصویر کادوسرارخ دیکھازیادہ سے زیادہ یہ ہوگاکہ ٹن بھربم پھٹ جائیں گے اس کے جسم کے پرخچے اڑجائیں گے مگروہ دماغ کہاں ہوگاجو کسی مسلسل ومتواترازیت سے دوچاہو گا۔اچانک موت آجائے گی ،نہ جسم رہے گانہ جان اورنہ دماغ گویانہ بانس رہے گا،اورنہ بجے گی بانسری اس کے برخلاف سول زندگی میں عین ممکن تھا،اسے سرطان ہوجاتا،اوروہ ایڑیاں رگڑرگڑ کرمرجاتا۔اس نے بدترین صورتحال سے سمجھوتہ کرلیا،اورپھرنہ رسہ ٹوٹا،اورنہ بم گرے ،جنگ ختم ہوگی اوروہ اپنی سول زندگی میں واپس آگیا،مگراس کے پاس بہت بڑاخزانہ تھا۔ایک نادراصول تھا،برے حالات سے تعاون کرنا،مشہورفلسفی اورحکیم سقراط کی موت تاریخ کاایک ایساباب ہے،جوبھلایانہیں جاسکتا،حاسدوں کی وجہ سے اس پرمقدمہ چلا،اورموت کی سزاہوگی،جیل کاداروغہ اس کادوست تھا،مگراپنے فرض سے مجبور جب وہ زہرکاپیالہ سقراط کے پاس لایاتوداروغہ نے کہا’’جوکچھ ہوکررہناہے،اسے سکون سے برداشت کرو۔ یعنی بدترحالات سے سمجھوتہ کرلو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں