بےنظٰیر کوکن باتوں کی سزا دی گئی..بلاول بھٹو کا گڑھی خدا بخش میں والدہ کی برسی پر خطاب

لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کو جمہوریت کے دفاع اور آمریت سے لڑنے کی سزا دی گئی۔

گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج کے دن 10 سال پہلے میری ماں، وفاق پاکستان کی علامت، شہید بھٹو کی بیٹی کو شہید کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو روشنی، زندگی اور امید کی علامت تھیں اور ان کی برسی کو مناتے ہوئے ہماری روح بے چین ہو جاتی ہے، آج کے دن کو برسی نہیں یوم شہادت کی طرح منا رہے ہیں کیونکہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور عظیم انسانوں کی شہادت قوم کی حیات بن جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مظلوموں کی قائد پر ہمیں فخر ہے، ہم نا تو بینظیر کو اور نا ہی آپ کے ساتھ کیے گئے وعدے کو بھولے ہیں، ہم آپ کے ساتھ پر چل رہے ہیں اور عوام کی خوشحالی کے لیے ظالموں سے لڑ رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بی بی کے قاتل ابھی تک معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، آپ کو خون میں نہلانے والے ہمارے ملک کے جوانوں، بیٹوں، بیٹیوں اور بے گناہ شہریوں کو بھی خون میں نہلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بے بس حکمران تماشائی بنے ہوئے ہیں، یہ لوگ تو دہشت گردوں کے خلاف بات تک نہیں کر سکتے، ان سے کیا لڑیں گے، بی بی کے پاکستان میں جمہوریت آج لاوارث بچے کی طرح اپنے والی وارث کو تلاش کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم جانتے ہیں بینظیر کو کس چیز کی سزا دی گئی، انہیں دنیا بھر میں اسلام کا پرامن چہرہ دکھانے، آمریت سے لڑنے اور سوات میں قومی پرچم لہرانے کی سزا دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی بی کو دہشت گردوں کو للکارنے، جمہوریت کا دفاع کرنے، آئین و پارلیمان کی بالادستی قائم کرنے اور پسے ہوئے طبقات کے لیے جدوجہد کرنے کی سزا دی گئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کو خواتین کو حقوق دینے اور غیر مسلموں کو ملک میں برابر کے شہری تسلیم کرنے کی سزا دی گئی، انہیں جرات اور بہادری اور عوام سے محبت کی سزا دی گئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آج مقبوضہ بیت المقدس بھی بینظیر بھٹو کے والد کو پکار رہا ہے، مظلوم آپ کی جرأت مند قیادت یاد کر رہے ہیں، آج پوری دنیا بینظیر کو یاد کر رہی ہے کیونکہ آپ دنیا کے مظلوموں کی آواز تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کی مشرق و مغربی سرحدیں غیر محفوظ اور پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور ہم عالم اسلام میں قائدانہ کردار کھو رہے ہیں۔

شریک چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بینطیر بھٹو نے 30 سال جمہوریت کے لیے جدوجہد کی، آمریت کے خلاف تحریکیں چلائیں، جیلیں کاٹیں، جلا وطنی دیکھی، دکھ سہے، اور وہ جس جمہوریت کے لیے لڑتی رہیں ہم نے اسے بحال کیا۔

انہوں نے کہا کہ 73 کا آئین جس کا چہرہ آمروں نے پی سی او ججز کے ساتھ مل کر بگاڑ دیا تھا اسے پیپلز پارٹی نےاصل شکل میں بحال کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر نے ہمیشہ صوبوں کے حقوق کی بات کی، 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ دے کر صوبوں کو حقوق دیے جبکہ ہم نے قانون سازی کرکے صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا، بینظیر غریب عورتوں کے حقوق کی بحالی کے حوالے سے پریشان تھیں، ہم نے خواتین کی خوشحالی کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا اور بے زمین کسانوں کو سرکاری زمین دے کر تاریخ میں پہلی مرتبہ انہیں زمین کا مالک بنایا۔

انہوں نے کہا کہ بی بی غریبوں کے علاج کے لیے پریشان رہتی تھیں، ہم نے ان کے لیے کراچی سے چھوٹے شہروں تک اسپتال بنائے، جہاں ان کا بالکل مفت علاج ہو رہا ہے۔ آپ غریب بچوں کی تعلیم کے لیے فکر مند رہتی تھیں، ہم نے اسکول جانے والی بچیوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا، آپ نے اپنے آخری منشور میں ماحولیات کو اہمیت دی، سندھ میں بجلی کے لیے ونڈ اور سولر پراجیکٹ شروع کیے۔

آپ نے جمہوریت کے لیے اپنی جان دیدی مگر موجودہ حکمرانوں نے اس کے ساتھ کیا کیا، یہ مذاق تو دیکھو، وزیراعظم موجود ہے لیکن کہتا ہے میں وزیراعظم نہیں، ان لوگوں نے جمہوریت کو کمزور اور پارلیمان کو بے توقیر کیا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے ہر ادارے کی آزادی کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور ملک کے چھوٹے صوبوں کو وفاق سے دور کیا جارہا ہے، آج ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور ملک کا بچہ بچہ قرض دار ہے، معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے، ان کی معیشت امیروں کے لیے ہے، اپنوں کے لیے ہے عوام کے لیے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ قاتل حکومت ہے، آج ملک میں روٹی مہنگی اور خون سستا ہو گیا ہے، دہشت گرد جب چاہتے ہیں ہمارے جوانوں اور معصوم شہریوں پر حملہ کرتے ہیں، آج بھی مارے اسکول کالج اور عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں، وزیراعظم کہتے ہیں ہم نے دہشت گردوں کو شکست دیدی، دوسرے ہی دن دہشت گرد حملہ کر دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں