جادوکافارمولا نمبر 3

زندگی ہرلمحے اورہرگھنٹے کے ریشے میں موجود ہوتی ہے اس سبق نے مالی اور جسمانی طورپر تباہ حال ایڈورڈ ایونزکوایک مشہورتجارتی کمپنی کاسربراہ بناکرچھوڑا،آج کمپنی کے علاوہ ایک طیارہ گاہ بھی اس کے نام سے مشہورہے ۔
ایڈورڈ آنجہانی اس قدرمفلس تھا،کہ پیٹ کادوزخ بھرنے کے لئے اخبارفروشی کرناپڑی شادی ہوئی توکنبے کاباراس پر آپڑا،جواس کے اسسٹنٹ لائبریری ین مقرر ہو جانے کی وجہ سے ایک حدتک مگربمشکل اٹھایاجاسکا،یہ آسامی چھوڑ کراس نے معمولی سا کاروبار شروع کردیا،جوچل نکلا،رفتہ رفتہ اس کی آمدنی بیس ہزارڈالر سالانہ ہوگی،لیکن کاروبار ایک عظیم نقصان سے دوچارہوگیا، وہ دیوالیہ ہوکرنہ صرف کوڑی کوڑی کامحتاج ہوگیا،بلکہ اپنی صحت گنواکرہسپتال میں صاحب فراش ہوگیا،وہ اضطراب اورپریشانی کامجسمہ ہڈیوں کاڈھانچہ بن کررہ گیا۔آخر اسے ڈاکٹروں نے بتا یا کہ وہ دو ہفتے سے
زیا دہ زندہ نہ رہے گا اس خبر نے اسے موت کے ڈرسے آزاد کر دیا ، اب وہ مو ت کے لیے تیار تھا ، اور اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر بڑے سکون سے ہسپتال کے بستر پر لیٹا رہا ، چودہ دن گزرے بیس دن گزرے مہینہ گزر گیا ، اسے موت نہ آئی ، مگر اس کی اور ڈاکٹروں کی حیرت کی انتہانہ رہی ۔ جب اس کا جسم کا وزن بڑھنے لگا ،بھوک لوٹ آئی ، چہرے پر سر خی آنے لگی ، اور آخر وہ ادویات کے بغیر تندرست ہو کر ہسپتال سے با ہر آگیا ۔
اس نے پہلے معمولی سی ملا زمت کی ، پھر ایک کا روبار کیا ، اس کا روبار نے اتنی ترقی کی کہ 1945میں وہ بہت بڑا کاروباری اور اپنی کمپنی کا صدر تھا ۔اس حقیقی داستان میں دو نکتے پوشیدہ ہیں ۔
۱۔ جب تفکرات اور پریشانی کو چھوڑا ،تو اسے بغیر ادویات ہی پوری صحت حاصل ہو گی ۔
۲۔ جب ہر گھنٹے اور ہر منٹ کو صرف آج قرار دیا ،تو کار و بار چمک اٹھا ۔زندگی دریا کی مانند ہے۔ جس کی گزر گاہ ہر گام تغیر پذیر رہتی ہے آپ جہاں آج قدم رکھ رہے ہیں ،وہاں کل پانی ہو گا پرانے رومی ان حالات سے واقف تھے ،ان کی سفید ملکہ نے کہا تھا ۔
’’دن کا لطف اٹھا ئیے یا دن کو اپنی گرفت میں لے لیجیے ،اور اس سے زیادہ مفاد حاصل کر نے کی کوشش کیجیے ۔مشہور شاعر دانتے نے کہا تھا :
’’آج کا دن ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے ،یہی اور صرف یہی ہمارا زمانہ حال ہے،جسے ہم حقیقی کہہ سکتے ہیں ،لاول تھا مس کا فلسفہ بھی یہی تھا ،اس نے اپنے فارم کی دیوار پر لگی تختی پر لکھ رکھا تھا ۔
’’یہی وہ دن ہے ،جسے خدا نے ہمارے لیے بنایا ،ہم اس دن مسرور شادماں ہونگے ،اور اس کا لطف اٹھائیں گے ۔جان رسکن کی میز پر ایک سادہ سے پتھر کا ٹکڑا رکھا رہتا تھا۔ جس پر صرف ایک لفظ کنندہ تھا ،امر و ز صرف آج کا دن ۔ سرولیم آسلر کا ذکر جادو کا فارمولہ نمر1میں تفصیل سے کیا گیا ہے ۔اگر آپ فکر او ر پریشانی کو دور رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے سنہری اصولوں پر عمل کیجیے ،یعنی آج تک محدود رہیے،دوسرے اپنے آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کریں ۔
۱۔ کیا میں مستقبل کی پریشانی اپنانے کے لیے زمانہ حال کی دلچسپیوں کو دور رکھنے کا خواہشمند ہوں ۔یا میں افق پر کسی طلمسی با غیچہ گلاب کی تمنا کر تا ہوں ۔
۲۔ کیا میں گزرے ہوئے واقعات اور نپٹائے ہوئے مسائل کی رٹ لگا کر آج کاسکون بر باد کر تا ہوں ۔
۳۔ کیا میں صبح اس عزم وار ادہ سے بیزار ہو تا ہوں ۔
کہ آ ج کے دن کو گرفت میں لوں گا۔ اور آئندہ کے چوبیس گھنٹوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کروں گا ۔
۴۔ کیا میں روز کے روز کو اہمیت دے کر بہتر سے بہتر بنا سکتا ہوں ۔
۵۔ میں مندرجہ بالا اقدامات پر کب عمل کروں گا ۔آج کل یا آئندہ ہفتہ ۔
کیا آپ باقی ماندہ کتاب پڑھنے کے بجائے اس وقت ایسا ذ و دا ثر اور تیر بہدف نسخہ معلوم کر نا چاہتے ہیں ۔جو آپ کو تفکرات اور پریشانیوں کے مصائب سے بچا سکے ،یقین کیجیے ،مجھے ایسا نسخہ اور ترکیب معلوم ہے ،یہ ایک ایسے شخص نے استعمال کی جو ایک معمولی ملازم تھا ،اس ترکیب نے اسے مشہور زمانہ کیریر کار پوریشننیو یارک کا چیئر مین بنا دیا ،مسٹر کیریر کو شروع میں ملازمت ایک گلاس کمپنی میں گیس صاف کرنے والی مشین پر لگا دیا گیا گو مشین بیس ہزار ڈالر میں خریدی گئی تھی ،تاہم ابھی تجر باتی مراحل سے گزر ری تھی ،مسٹر کیریر کی پوری کوشش کے باو جود مشین سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے ،کامیابی ہو رہی تھی ۔مگر اس کا تنا سب بہت کم تھا ،او ر کمپنی نقصان میں جا رہی تھی ،مسٹر کیریر کی یہ ناکامی ان کی کھو پڑی پر پتھر کی طرح لگی اور وہ بھنا کر رہ گئے ۔لیکن انہوں نے اپنی پریشانی کو اپنے اعصاب پر سوار نہ ہونے دیا ،انہوں نے حالات کے سائنسی تجزیہ کیا جس کے تین مراحل تھے ۔
۱۔ نتائج کو تسلیم کرنا ہو گا ۔
۲۔ برے سے برے نتائج کیا ہوں گے ۔
۳۔ مالک مشین کو اکھاڑ لیں گے اور ان کی ملازمت ختم ہو جائے گی ۔
انہوں نے ان نتائج کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ،بیس ہزار ڈالر کی رقم مالکوں کے لیے کوئی بڑی بات نہ تھی ،وہ تحقیق اور تجربے کے نام پر اسے برداشت کر سکتے تھے ۔مسٹر کیریر کی پیشانی پر نا اہلی کا نشان نہ لگے گا۔ اور انہیں دوسری جگہ ملازمت مل جائے گی ۔جب یہ صورت تسلیم کر لی گئی ۔تو پریشانیاں ختم ہو گئیں ۔اعصاب پر سکون ہو گئے اور انہوں نے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا ۔
۳۔پر سکون اعصاب کا بہترین استعمال
انہوں نے مشین مزید تجر بات کیے ۔معلوم ہوا کہ اگر مشین میں پانچ ہزار کے نئے پر زے ڈال دیئے جائیں تو نقائص دور ہو سکتے ہیں اور یہی ہوا ۔مشین صحیح معانی میں کام کرنے لگی یہ تینوں اصول ان کی زندگی میں مشعل راہ ثابت ہوئے اور وہ بڑے آدمی بن گئے
عملی نفسیات کے بانی پروفیسر جیم کا مشہور فار مولایہ تھا ۔’’ ماضی میں جو کچھ ہو چکا اس پر صبر کرو ۔
بد نصیبیوں کو برداشت کرنے کا طریق کا ر یہی ہے کہ جو کچھ بیت چکا ہے ۔ اس پر رضا مند ہو جاؤ ۔
یہ فار مولاقائم و دائم ہے ۔جو لوگ اس پر عمل کر تے ہیں ۔وہ حقائق کو تسلیم کر کے اپنا حال اور مستقبل متاثر نہیں ہونے دیتے ۔چینی فلسفی لن یو تانگ نے یہی نظریہ پیش کرتے ہوئے لکھا ’’صحیح ذہنی سکون تبھی حاصل ہے ۔جب بد سے بدتر صورتحال کو حقیقی معانی میں تسلیم کر لیا جائے ۔نفسیاتی طور پر اس کا مطلب ہے ۔’’ اخراج قوت ‘‘لیکن عام لوگ ان اقوال پر عمل کرنے کے بجائے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ۔وہ نتائج کو ایک عبوری مرحلہ سمجھ کر اس سے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں ۔حقائق کا رخ اپنی خواہشات کی طرف موڑ نا چاہتے ہیں ۔جو نا ممکنات میں سے ہو تا ہے ۔لہٰذا وہ ذہنی اضطراب تفکرات ،ہیجان ،بلکہ مالی خولیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں