جادو کا فارمولا نمبر 2

مسز ای ، کے شیلڈ جو 518کورٹ سٹریڑ نا ممپگن میں مقیم مسرت وشاد مان ازواجی زندگی کے دن گزار رہی تھی ۔ ان پر اچا نک بلا ٹو ٹ پڑی ، 1927ء میں ان کے شو ہر کا انتقال ہو چکا تھا ،وہ شادی سے قبل دیہی اسکول میں جا کر کتب فروشی کا کام کیا کر تی تھیں انہوں نے ایک پرا نی کار کرایہ پر لی اور پھر وہی دھندا شروع کر دیا ، ذہنی پر یشانیاں غموں سے کھوکھلا جسم ، دیہی علا قوں کی کچی اور غیر ہموار سٹرکیں پر انی اور ہر گام پر بگڑتی ہو ئی کار کتب کی نا قدری اور سب سے زیا دہ تنہا ئی نے ستم ڈھا نا شروع کر دیا وہ بیمار رہنے لگی ، انہیں یہ غم کھا ئے جا رہا تھا کہ اگر وہ بیمار رہنے لگیں ، تو طو یل علا لت اور خوراک کے اخراجات کہاں سے ادا ہو نگے ، اگر وہ مر گئیں تو کفن دفن کی ذمہ داری کون لے گا ، جسما نی عوارض پر جب یہ ذہنی پر یشا نیاں سوار ہو ئیں۔ تو نیند اڑ گئی راتیں جاتے گزرتیں۔ انہوں نے خود کشی کی کو شش کی۔ مگر ناکام ہو گی ۔ غم واندوہ کی انہی گہرائیوں میں گھری وہ ایک مضمون پڑھ رہی تھی،کہ ان کی نظریں ایک فقرے پرگڑی رہ گئیں ،جس نے اس کی دنیابدل دی فقرہ جسے فوراً ٹائب کرلیاگیا،یوں تھا۔
عقلمندانسان کے لئے ہردن ایک نیادن ہوتاہے اس فقرے نے بوڑھی خاتون کے دل کو آج کے نئے ولولے کی آمد کاپیغام دیا،انہیں یقین ہوگیا،وہ اس ایک دن تو مسرور وشادمان رہ سکتی ہے ،مسیح کی پیدائش سے تیس سال قبل ایک رومی شاعرہورلیس نے یوں کہاتھا۔
’’صرف اورصرف وہی فرد مسرور وشادماں ہوتاہے،جوآج کواپنادن کہہ سکے۔جس کی شخصیت اتنی مضبوط ہوکہ آنے والے دن کوکہہ سکے،
’’تف تم پرکہ میں نے آج رات تک زندہ رہناہے‘‘سٹیفن لاک لکھتاہے کہ بچہ اس اندازمیں سوچتاہے،کہ وہ جب وہ جوان ہوگا،توحالات کیسے ہونگے،جوان سوچتاہے شادی ہوگی بچے پیداہونگے،توکتنی مسرت بھری زندگی ہوگی،لیکن واقعات اسے بڑھاپے کی منزل تک پہنچادیتے ہیں جہاں وہ سب کچھ کھوبیٹھتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں