جادو کا فار مولہ نمبر4

مرکز تعلیم بالغاں کے ایک طالب علم کا پٹرولیم کی مصنوعات کا کاروبار کر تا تھا ۔جو گذشتہ چوبیس سال سے بڑی نیک نامی سے چل رہا تھا ۔جنگ عظیم کے دوران انہیں ہدایات ملیں کہ صرف ان حضرات کے پاس پٹرول فروخت کیا جائے ۔جن کے پاس سرکاری کو پن ہوں ۔یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ انہیں خفیہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کے کئی ملازم کو پن والوں کو پورا پٹرول نہیں دیتے اور جو کچھ بچ رہتا ہے ۔اسے بلیک مارکیٹ میں دوسروں کے پاس فروخت کر دیتے ہیں ۔وہ ابھی اپنے سٹاف کو تنبہہ کرنے نہ پائے تھے۔ کہ ایک شخص خلوت میں ان کے پاس آیا۔ اور اپنے آپ کو متعلقہ محکمے کا انسپکٹر ظاہر کر کے کہا کہ اس کے پاس متعدد دستاویزی ثبوت ہیں ،کہ ان کے کار کنان بلیک مارکیٹنگ کے مرتکب ہوچکے ہیں ،اگر یہ کیس عدالت میں بھیج دیا جائے ،تو صر ف فرم کا لائسنس منسوخ ہو گا۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ مالک کو بھی جرمانہ اور قید کی سزا ملے ،البتہ اگر پانچ ہزار ڈالر دے کر اس کی مٹھی گرم کر دی جائے ۔تو وہ کیس کو رفع دفع کر سکتا ہے ،وہ تین دن کی مہلت دے کر چلا گیا ۔
اس آدمی پر پریشانیوں اور تفکرات کا بادل بر س پڑا ،اس کی نیند اڑ گئی ،انہیں دنوں اسے مسٹرکیریر کے تجربات سے روشناس کرایا گیا ،اس نے تین مراحل پر مشتمل فارمولے پر عمل کیا ،اب اس کا رد عمل یہ تھا ۔
۱۔ برے سے برے نتائج کیا ہونگے ۔
فرم کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا ۔تو فرم دیوالیہ ہو جائے گی ،جرمانہ ہو گا ،نتائج کو تسلیم کر نا ۔
۲۔ اس نے انجام کو تسلیم کر لیا ،اور اسی بات کے لیے تیار ہو گا ،کہ اگر کچھ بھی باقی نہ رہا اتو وہ اپنے سابقہ تجر بات کی بنیاد پر ملازمت حاصل کر لے گا ،اس طرح اس کا ذہن پر سکون ہو گیا ۔
۳۔ پر سکون اعصاب کا بہترین استعمال
اس نے فیصلہ کر لیا ،کہ وہ اپنے وکیل سے ملے گا ،وکیل نے رائے دی۔ کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو فوراً اطلاع دے دی جائے۔ مجسٹریٹ نے فوراً انسپکٹر کی آمد پر چھاپہ مارا ، تو وہ انسپکٹر ایک چھٹا ہوا
بد معاش تھا ۔جو پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا ،بلیک میلنگ کا نشانہ نا کام ہو گیا ۔اس دن سے مسٹرکیریر تین مراحل پر مبنی کلیہ استعمال کر تا ہے ۔ایک اور کہانی ملاحظہ کریں ۔یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے مسٹر کیریر کے اصول معلوم نہ تھے لیکن نا دانستہ طور پر ان پر عمل کیا ،اور ڈاکٹروں کے الفاظ میں قبر سے زندہ باہر نکل آیا ۔
1920ء کے لگ بھگ کا زمانہ تھا۔ جب مسٹر ارل پی ہنری کو تفکرات اور پریشانیوں نے اس قدر گھیرا ،کہ ان کا وزن 175سے گر کر صرف 90رہ گیا ،ڈاکٹروں نے آنتوں کا السر تشخیص کیا ،ایک دن ان کی انتوں سے اس قدر خون آیا ،کہ انہیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا ،مرض طویل ہو تا گیا۔،ڈاکٹران کے مستقبل کے بارے میں مایوس ہو گئے ،اور انہیں بتایا کہ ان کی زندگی چند ماہ سے زائد نہیں ،اور یہ بھی قلیل مدت اس طرح میسر آ سکتی ہے کہ مسٹر موصوف کوئی کام نہ کریں ۔اور پر ہیزی کھانا کھائیں ۔
ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق مسٹر ہنری نے بڑی اچھی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ۔اب وہ ذہنی طور پربد سے بد تر کے لیے تیار تھا ۔یعنی ذہنی طور پر موت کی آمد کا منتظر تھا ۔
مسٹر ہنری کے دل میں کبھی کبھار خواہش بیدار ہو تی کہ وہ دنیا کا چکر لگائیں ،لیکن ملازمت کی پابندیاں ہر دفعہ اڑے آئیں ،اور انہیں اپنی خواہش کا گلہ دبانا پڑا ،اب وہ آزاد تھے ،ایک دن انہوں نے اس طویل سفر کا فیصلہ کر کے اپنے ڈاکٹروں کو اطلاع دے دی ،ڈاکٹراس فیصلے سے اتنے پریشان ہوئے ،کہ انہوں نے کہہ دیا کہ اگر انہوں نے چند دنوں کے اندر موت کے منہ میں جانا ہے ،تو بے شک یہ سفر اختیار کر سکتے ہیں ،لیکن مسٹر ہنری فیصلہ کر چکے تھے انہوں نے بحری سفر کے لیے ایک مشہور جہاز راں کمپنی کا انتخاب کیا ،کرائے کی شرائط میں بھی یہ تحریر کرالیا ،کہ اگر وہ سفر کے دوران مر جائیں تو کمپنی کو ان کی لاش ان کے آبائی شہر قبرستان میں پہنچا ئی جائے گی ۔
جملہ شرائط طے کر کے وہ سفر پر روانہ ہوئے ،تو ان کے سامنے مسر توں ، رنگ رنگ کے کھانے ،انہوں نے ہر چیز کا لطف اٹھایا ،اور ڈاکٹروں کی اصطلاح میں خوراک کے سلسلے میں ہر طرح کی خوب
بد پرہیزی کی ،خاص طور پر مشرقی ثقیل کھانوں سے خوب لطف اندوزہوئے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ کھاناخوب ہضم ہونے لگا۔ جسم میں پھرتی آگئی چہرے پر سرخی آنے لگی ،اور سفر کے آخر میں جب وہ وطن پہنچے ،تو ان کا وزن 90 پونڈ سے بڑھ چکا تھا ۔انہیں دوبارہ ملازمت دے دی گئی۔ اور وہ دفتر کے صحت مند افسروں میں شمار ہونے لگے ۔
وہ لکھتے ہیں کہ واپسی پرمسٹر کیریر کے تین شہرہ آفاق اصول معلوم ہوئے ،لیکن وہ تو پہلے ہی ان پر عمل کر چکے تھے ۔یعنی
۱۔ ڈاکٹروں نے انہیں برے سے برے نتائج یعنی موت سے آگاہ کر دیا تھا ۔
۲۔ انہوں نے موت کو تسلیم کر لیا ،اپنا تابوت بنوالیا اور پر سکون ہو گئے ۔
۳۔ جب انہیں پر سکون اعصاب کی نعمت میسر آئی تو انہوں نے سیرو تفریح کا پر و گرام بنایا ،اس پر عمل کیا اور اس بنیاد پر جو عمارت تعمیر ہوئی وہ ماضی سے بالکل مختلف تھی ،وہ مکمل طور پر تندرست لوٹے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں