خسارہ روک اصول پرعمل کریں

امریکہ کے مشہورصدرابراہم لنکن کاعمل یہ تھاکہ جب ان کاکوئی سیاسی مخالف ان پرحملے بندکردیتا۔تووہ اس کی فائل کووہیں روک دیتے۔ اوراس بات سے بے پرواہ ہوجاتے۔ کہ زمانہ ماضی میں وہ ان پرکتنے سخت حملے کرتارہاہے۔ گویاخسارہ روک اصول لگاکرایک پریشانی ختم کردیتے ۔
اس باب میں اگلاقصہ ہے کہ میرے چچاکسان تھے ۔ان کی ملکیت ناقص قسم کی زمین تھی۔گھاس پھوس سے اَ ٹی ہوئی ۔بہت کم آمدنی ہوتی تھی۔ایک دفعہ چچی کوشوق چرایاکہ گھرکوقیمتی پردوں سے سجائیں۔ نقدرقم موجودنہ تھی۔
چچی نے ایک اسٹورکانام لیتے ہوئے کہاکہ وہ اس سٹورسے ادھارلے آئیں گی۔ چچاکومعلوم تھاکہ ان کی آمدنی اتنے بڑے خرچے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔وہ رازداری میں سٹوروالوں کوکہہ آئے تھے۔کہ پردے ادھارنہ دیئے جائیں ۔چچی کومعلوم ہواتوبہت بگڑیں۔ زمانہ گزرتاگیا، لیکن انہوں نے اس واقعہ کومستقل طورپراپنے ذہن پرسوار کرلیا،ہرفرد اورملاقاتی کوداستان سناتے سناتے پچاس سال گزرگئے۔چچافوت ہوگئے ہیں ۔چچی کی عمراٹھتربرس ہے مگراس محرومی کی داستان وہ اب تک سناتی ہے اورہرکس وناکس کوسناتے ہوئے چچی نے کتنی بڑی قیمت اداکی ۔ایک مستقل پریشانی اوراضطراب کی صورت میں وہ کسی مقام پرخسارہ روک اصول لگاسکتی تھی ۔
اس طرح باقی ماندہ زندگی امن وامان سے گزرتی ،اوربڑھاپے میں انہیں نہ کڑھنا پڑتا ، پر یشانی اوراضطراب دورکرنے کاایک اصول یہ بھی ہے ۔کہ خسارہ روک اصول لگاکراپنی پر یشا نیوں کووہیں روک دیں۔اپنی ضروریات اوران کے خریدنے کیلئے یہ تین باتیں مشعل راہ بنائیں۔
۱۔ کیایہ چیزبے حدضروری ہے۔
۲۔ میں کون سے مقام پرخسارہ روک اصول لگاسکوں گا۔
۳۔ مجھے اس کی کتنی قیمت اداکرنی پڑے گی۔
اب ہم خسارہ روک اصول کونفسیاتی مریض کے طرزعمل کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں جوبھی نفسیاتی مریض بنتاہے اس کی زندگی میں خسارہ روک اصول نہیں ہوتا،اسی لئے وہ نفسیاتی مریض بنتاچلاجاتاہے اورایک دن اس کادل ودماغ اس کے قابو میں نہیں رہتے ۔ماہرین نفسیات اس کو مالخولیا،شیزوفریناڈیپریشن نہ جانے کیاکیانام دیتے ہیں۔ اگرنفسیاتی مریض اپنی سوچ پرخسارہ روک اصول لگالیں۔ تو وہ مزیدتباہ ہونے سے بچ جائیں گے بلکہ ان کے لئے واپسی کاراستہ بھی آسان ہوجائے گا۔
ہر انسان کے لئے ضروری ہے ۔کہ وہ اس بات کومدنظر رکھے،کہ جتنانقصان ہوچکااس پرسرپیٹنے کے بجائے خود کودرست راستہ پرڈال کرخسارہ روک اصول پرعمل کیاجائے۔
میں نے اپنی زندگی میں خسارہ روک اصول لگانے کاایک بہت ہی زریں اصول اپنایاہے ، کہ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ کوئی مجھے بھلائی کاجواب برائی سے دے ۔گذشتہ زندگی میں میرے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کی ہو۔ان سب کے لئے میرااصول ہے ۔کہ میرے لئے میرااللہ ہی کافی ہے ۔
لیکن اس کامطلب یہ بھی نہیں کہ دوسرے جوچاہے کرتے پھریں ۔ صبروتحمل کے ساتھ سمجھایاجاسکتاہے۔لیکن ذہنی طورپرخود کوبارباران کی کیسٹ سناکربے آرام کرنامناسب نہیں، اس کے لئے اس سے بہترکوئی الفاظ نہیں کہ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے کیونکہ جس کے ساتھ اللہ ہواس کاکوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا۔انشاء اللہ !

اپنا تبصرہ بھیجیں