خوب صورتی کی بے دھڑک تعریف

محاورہ عربی زبان کا لفظ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں”محور” شامل ہے جس کے معنی ہیں مرکزی نقطہ فکر و عمل۔ جس کے گرد دائرے بنائے جاتے ہیں۔ یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محاورہ زبان کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے یعنی وہ دائرہ جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے گرد پھیلی ہوئی بہت ساری حقیقتوں کو یہ کہیے کہ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ ہمارے محاورات ہمارے مُشاہدوں اور طرح طرح کے تجربوں کو پیش کرتے ہیں اور انہیں کہیں عام معاشرتی انداز فلسفیانہ اور کہیں شاعرانہ انداز سے سامنے لایا جاتا ہے۔مثلاا یک محاورہ ہے .ابلا پری، اَبلاّ رانی ہونا
بہت خوب صورت ہونا۔ اصل میں رانی اور راجہ کا لفظ مرد اور عورت کے شخصی امتیاز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھولوں میں بھی ایک پھول دن کا راجہ ہوتا ہے اور ایک رات کی رانی۔ اس سے بھی پھولوں میں اُن کا ممتاز ہونا ظاہر ہے۔ “ابلا” لڑکی کو کہتے ہیں اور جسے بہت خوب صورت لڑکی ظاہر کرنا ہوتا ہے یا پھر سمجھا جاتا ہے، اِسے”اَبلا پری” کہا جاتا ہے۔
قدیم ہندوستان میں پریوں کا تصوّر نہیں تھا۔ اسی لیے”ابلاّ رانی” کہا جاتا تھا۔ جب فارسی کے ذریعہ”پری” کا تصوّر آیا تو”ابلاّ پری” کہا جانے لگا۔ بہر حال، “ابلاّ پری” ہو یا “ابلاّ رانی”، حُسن کا ایک آئیڈیل تصوّر ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لفظی طور پر ہم نے فارسی سے جو الفاظ لیے ہیں، ان کا ہماری تہذیب سے بھی ایک رشتہ ہے۔ حسین عورت کو ہم “پری چہرہ” بھی کہتے ہیں، چاہے دیووں، جن، بھوتوں اور پریوں کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں۔
حضرت امیر خسرو کا مشہور فارسی شعر ہے
پری پیکر، نگارِ سرو قدے، لالہ رُخسارے
سراپہ آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم
یعنی وہ جو پری پیکر ہے، حسین اور خوب صورت ہے، سرو قد ہے، لالہ رُخسار ہے اور سر تا پا آفتِ دل ہے اور میں نے رات اسے اس کی تمام جلوہ آرائیوں کے ساتھ دیکھا ہے۔ اس شعر کو اگر دیکھا جائے تو اس میں”ابلاّ رانی” یا “ابلاّ پری” کی وہ خو بیاں نظر آتی ہیں جو ایرانی تصوّرِ حسن کو پیش کرتی ہیں اور ہندوستان کی ایک حسین عورت کی خوب صورتیاں اس میں جھلکتی ہیں۔ “اَبلا رانی” سے “اَبلاّ پرَی” تک محاورہ کا یہ شعر ہماری تہذیبی تاریخ کی روشن پرچھائیوں کی ایک متحرک صورت ہے۔اور ہاں یہ اَبلا پری، اَبلاّ رانی ہونا
بہت خوب صورت ہونا۔ اصل میں رانی اور راجہ کا لفظ مرد اور عورت کے شخصی امتیاز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھولوں میں بھی ایک پھول دن کا راجہ ہوتا ہے اور ایک رات کی رانی۔ اس سے بھی پھولوں میں اُن کا ممتاز ہونا ظاہر ہے۔ “ابلا” لڑکی کو کہتے ہیں اور جسے بہت خوب صورت لڑکی ظاہر کرنا ہوتا ہے یا پھر سمجھا جاتا ہے، اِسے”اَبلا پری” کہا جاتا ہے۔
قدیم ہندوستان میں پریوں کا تصوّر نہیں تھا۔ اسی لیے”ابلاّ رانی” کہا جاتا تھا۔ جب فارسی کے ذریعہ”پری” کا تصوّر آیا تو”ابلاّ پری” کہا جانے لگا۔ بہر حال، “ابلاّ پری” ہو یا “ابلاّ رانی”، حُسن کا ایک آئیڈیل تصوّر ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لفظی طور پر ہم نے فارسی سے جو الفاظ لیے ہیں، ان کا ہماری تہذیب سے بھی ایک رشتہ ہے۔ حسین عورت کو ہم “پری چہرہ” بھی کہتے ہیں، چاہے دیووں، جن، بھوتوں اور پریوں کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں۔
حضرت امیر خسرو کا مشہور فارسی شعر ہے
پری پیکر، نگارِ سرو قدے، لالہ رُخسارے
سراپہ آفتِ دل بُود، شب جائے کہ من بودم
یعنی وہ جو پری پیکر ہے، حسین اور خوب صورت ہے، سرو قد ہے، لالہ رُخسار ہے اور سر تا پا آفتِ دل ہے اور میں نے رات اسے اس کی تمام جلوہ آرائیوں کے ساتھ دیکھا ہے۔ اس شعر کو اگر دیکھا جائے تو اس میں”ابلاّ رانی” یا “ابلاّ پری” کی وہ خو بیاں نظر آتی ہیں جو ایرانی تصوّرِ حسن کو پیش کرتی ہیں اور ہندوستان کی ایک حسین عورت کی خوب صورتیاں اس میں جھلکتی ہیں۔ “اَبلا رانی” سے “اَبلاّ پرَی” تک محاورہ کا یہ شعر ہماری تہذیبی تاریخ کی روشن پرچھائیوں کی ایک متحرک صورت ہے۔اور ہاں یہ خوب صورتی کی بے دھڑک تعریف ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں