خوف یا وہم کا تدارک کیسے ؟

راشدہ کے بیٹے کا بخار بتدریج اوپر کی طرف جا رہا تھا عین 104کے درجہ حرات پر راشدہ
بے ہو ش ہو کر گر پڑی ، راشد ہ کو ہسپتال لے جا یا گیا وہ عا رضہ قلب کا شکار ہو گئی تھی ، پندرہ دن تک ہسپتال کے بیڈ پر پڑی رہی ، اس دوران ننھا صغیر روز اسے ملنے ہسپتال جا تا جس کی وجہ سے وہ بیڈ پر پڑی تھی ۔
کیا وجہ تھی کہ راشدہ ایک انجا نے دہشت زدہ خوف پر قا بو نہ پا سکی ، اس کی تفصیل میں جا نے سے پہلے ہم ایک اور واقعہ دیکھتے ہیں ، ڈاکٹر سر فراز ایک سخت طبیعت کے ڈاکٹر تھے ۔ بلکہ نظم وضبط پر ہر لمحہ
کار بند رہنے والا ایسا شخص جس کے مطا بق وقت کی پا بندی، ہر چیز کو سلیقے سے اس کی مطلو بہ جگہ پر رکھنا ، کھا نے کے اوقات ، آرام کے اوقات ، غر ض ہر چیز او رکام کے لیے وقت مقرر تھا ، اپنی با ت کے فیصلے کے خلاف اسے ایک لفظ سننا بھی گوارانہ تھا ۔ اس نے سب کی ٹھکا ئی عین اسی طرح کی ، جس طرح غا لباً اس کی ہو ئی تھی ، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر بننا اس کا جنون بن گیا تھا ، مگر بچوں پر اثر کچھ اس کے بر عکس ہوا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں کو گھڑی کی سوئیوں کی طرح چلا نا چا ہا، اور بچے گھڑی کی سوئیوں کی طرح چلتے بھی رہے ، مگر وہ اپنے کسی بھی بچے میں ڈاکٹر بننے کی صلاحیت نہ پیدا کر سکا اور سب بچے اس لا ئن کے لیے بری طرح فیل ہو گئے ، اور کو ئی بھی زند گی کے کسی شعبے میں خاص کا ر گر دگی نہ دکھا سکا ۔
غا لباً اس کی وجہ یہی تھی کہ بچوں کی انفرادی صلا حیتوں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا اور بچوں کی پسند اور مر ضی کو ایک بھول سمجھا گیاتھا۔
نتیجہ کیا نکلا ؟
سب بچے خوف زدہ رہ کر اپنے اندر خوف کو پا لتے رہے ، کو ئی بھی بچہ بڑا ہو کر باپ کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکا ۔
کیوں کہ انہیں اپنی مر ضی سے کسی کام کی اجازت نہ تھی اس لیے وہ جب بھی کسی کا م کے بارے میں
سو چتے نا کا می کا خوف غالب آجا تا اور وہ نا کا می سے کترانے لگے ، ایسا نہ ہو جائے ویسا نہ ہو جا ئے ۔ گھڑی کی سوئیوں کی طرح بچوں کو چلا نے کا کیا فا ئدہ ہوا ۔ کہ وہ اپنی سو جھ بو جھ کو ہی تا لا لگا بیٹھے ۔ ڈاکٹر صاحب کے ذہن میں کیا تھا جس نے انہیں ایک ڈکٹیٹر بننے پر مجبور کیا ۔
غور سے دیکھا جا ئے تو ان کے ذہن میں بھی اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کا خوف تھا ، وہ سب کو ایک
کا میاب ڈاکٹر بنانا چا ہتے تھے ۔ مگر کو ئی بھی کلر کی کی لا ئن سے آگے نہ بڑھ سکا کیوں کہ کسی دوسرے شعبے میں انہیں قسمت آزما ئی کا مو قع ہی نہ ملا ۔ بچے چونکہ خوف کے غلام تھے ، اپنی پسند کی تعلیم اور کام کی اجازت نہ تھی ، اس لیے وہ کا میاب منزل کی طرف گامزن نہ ہو سکے ، خوف کی دو قسمیں ہیں ۔
صحت مند خوف ، غیر صحت مند خوف
صحت مند خوف اللہ پا ک نے انسان میں پیدا کیا ہے ، تاکہ وہ کو ئی برا کام نہ کر ے ، اور پھر ممکنہ نقصان سے بچے۔ صحت مند خوف کی وجہ سے ہم اپنی زند گی میں آنے والی بہت سی مشکلات سے بچ
جا تے ہیں ۔ مثلاً آگ میں ہا تھ ڈا لنا ، پا نی میں چھلا نگ لگا نا ،اونچا ئی سے کودنا وغیرہ یہ صحت مند خوف اس صورت میں ہماری مدد کر تا ہے کہ ہم لو گوں کے سا منے احمقانہ حر کتوں سے باز رہنے کی حتی الا مکان کوشش کر تے ہیں ۔
غیر صحت مند خو ف
مثلاً نا کامی کا خوف ،ردکیے جا نے کا خوف ، لو گوں کا خوف ،بڑھا پے کا خوف ، مال وزر کھو جانے کا خوف ، مستقبل کا خوف ، روزی روز گار کے ختم ہو نے کا خوف، اگر آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو بہت سے لو گ اس قسم کے خوف پر قا بو پا نے کے لیے نشہ آور ادویات کا استعمال کر تے ہیں ۔ آپ کے خیال میں سکون آور ادویات کیا کرتیں ہیں ۔ یہ اس خوف کو وقتی طور پر دبا دیتی ہیں ، لو گ خوف کو سکون سے دلا سا دینے کی کو شش کر تے ہیں اور ہمت باندھنے کی کوشش کر تے ہیں ، خوف کو دلا سے کی نہیں ایمان سے مغلوب کر نے کی ضرورت ہو تی ہے ، خوف کو اپنے ایمان پر حا وی نہ ہو نے دیں بلکہ ایمان کو خوف پر حا وی کریں۔ ؂
بہت سے لوگ اس خوف میں مبتلا ہو تے ہیں کہ ہماری قسمت ہی بری ہے اور وہ زندگی میں کامیابی کارسک لینے کے بجائے قسمت کی خرابی کے خوف میں مبتلارہتے ہیں ، اورکچھ تواس حدتک قسمت کی خرابی کے خوف میں مبتلاہوتے ہیں کہ وہ خودکشی تک کرلیتے ہیں۔
ایک خوف ہے ردکیے جانے کاخوف
یہ خوف انسان کی صلاحیتوں کومفلوج کرکے رکھ دیتاہے۔ہم میں سے کوئی بھی ردکیاجاناپسندنہیں کرتا،لیکن بعض اوقات لوگ اس خوف کواپنی زندگی کے تعلقات پرحاوی کرلیتے ہیں۔ماہرین نفسیات اب اس طرح آرہے ہیں کہ ایمان ایک مضبوط انسان کے لئے کس قدر ضروری ہے صحت مندخوف اللہ پاک نے انسان کے وجود میں ڈالا، تاکہ وہ احمقانہ حرکات اورناپسندیدہ کاموں سے بچتارہے ۔
اللہ سے ڈرتارہے کسی کوہاتھ اورزبان سے تکلیف نہ پہنچائے ،یعنی متقی بن کرجیے ۔یہ صحت مندخوف اللہ پاک کاانعام تھا۔مگراس خوف کولوگوں نے غیرصحت مندخوف میں بدل دیا،کیوں کہ لوگوں کے ایمان کمزورہوگئے،خداکی ذات سے اعتماد اٹھ گیااورلوگ دوسرے ذرائع پربھروساکرنے لگے۔
خوف کاایک علاج یہ بھی ہے کہ اگرکوئی خوف ٓاپ کے دل میں گھرکرلے اورہر وقت آپ کوستانے لگے ،توآپ آرام سے بیٹھ کرزیادہ سے زیادہ خطرناک نتائج کااندازہ لگائیں کہ ان خطرناک نتائج میں سے کس کو بچایاجاسکتاہے اورپھرلائن آف ایکشن اختیارکریںیعنی ایک فیصلے پرقائم ہوجائیں۔
زیادہ سے زیادہ خطرناک کاتخمینہ لگاکرمسائل کے خلاف نبردآزماہوجائیں اورمکمل توجہ مسئلے کوحل کرنے پرلگادیں۔توان شاء اللہ مسئلے کاکوئی نہ کوئی حل ضرورنکل آئے گا۔لیکن یاد رہے کہ آپ کوہرلمحہ یہ دعانہیں بھولنی چاہئے ۔ ہم تیری غلامی کرتے ہیں اورتجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
ایک دفعہ نہیں ہزاردفعہ سوچئے کہ کیاآپ واقعی اللہ کی غلامی کرتے ہیں اورکیااسی سے مدد بھی مانگتے ہیں ۔
اگرآپ اللہ کی غلامی کرتے اوراسی سے اپنے جسمانی اورروحانی مسائل کے لئے مدد بھی مانگتے ہیں۔توپھرآپ اللہ پرکامل بھروسابھی رکھیے اوراپنی صلاحیتوں کابھرپوراستعمال کریں اورپھرنتائج دیکھیں۔اسی لیے حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
) سورہ یونس آیت 84 پارہ 11
اور موسیٰ ؑ نے کہا۔اے میری قوم اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائی ہو ۔تو تم اسی پر بھروسہ کرو ۔اگرتم مسلم ہو
) سورہ اعراف آیت 126 پارہ 9
اور تم ہم سے کس بات کا انتقام لیتے ہو ۔کیا صرف اس بات سے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لائے۔جب وہ ہمارے پاس آئیں ۔اے ہمارے رب ہم پر صبرڈال دے ۔اور ہمیں مسلم کی حالت میں موت دے ۔
یاد رکھیے ؟
یادرکھیے کہ خوف پرصرف ایمان کے ذریعے قابوپایاجاسکتاہے ۔کسی کامیابی یاتاکامی کے بارے میں اللہ پرتوکل کرنااوریہ خیال رکھناکہ یہ کام اس طرح ہوناہی میرے لئے بہترتھا،کامل ایمان کی علامت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں