درگاہ فتح پور میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 22

جھل مگسی: درگاہ فتح پور میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی جب کہ تدفین اور نماز جنازہ کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے جھل مگسی میں درگاہ فتح پورکے داخلی دروازے پر گزشتہ روز ہونے والے دھماکے میں پولیس اہلکار سمیت 20 افراد شہید اور 33 زخمی ہوگئے تھے جب کہ دھماکے کے 2 زخمی آج دم توڑ گئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔

خودکش حملہ آور کو درگاہ کے دروازے پر ہی روکنے والے بہادر پولیس اہلکار بہار خان شہید کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کردی گئی جسے اس کے آبائی علاقے میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والے 20 افراد کی شناخت ہوگئی ہے جن میں دل مراد، جان محمد، غلام سرور، علی گل، لکھمیر، رمضان، بڈھل فقیر، حسین بخش، صاحب خان، من دوست، بہرام لہڑی، سلیم اور نثارشاہ شامل ہیں۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مطابق جمعرات کے روز کی وجہ سے درگاہ پر رش تھا اور پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور کو روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ترجمان بلوچستان حکومت انوارالحق نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش پر پولیس اہلکار شہید ہوئے جب کہ دھماکا اس وقت ہوا جب درگاہ میں عرس کی تقریب جاری تھی۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال جھل مگسی ڈاکٹر رخسانہ مگسی کا کہنا ہے کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو کوئٹہ، لاڑکانہ، جیکب آباد اور شہداد کوٹ کے اسپتالوں میں جبکہ دیگر کو ڈسٹرکٹ اسپتال جھل مگسی میں طبی امداد دی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ یہ درگاہ کوئٹہ سے تین سو کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے۔

فتح پور کی اسی درگاہ پر 19 مارچ 2005ء کو ایک خود کش حملے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں