دہشت گردی کی زد میں ہمارا کیا بنے گا

کراچی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں جمعے کی دوپہر کو کچھ اساتذہ دہشت گردی کے خلاف بینر لیے کھڑے نظر آئے، جن پر جہاں مقامی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی مذمت تحریر تھی وہاں ’کراچی یونیورسٹی کو بدنام نہ کرو‘ کے بھی بینر موجود تھے۔
اساتذہ کی تنظیم کے رہنما شکیل فاروقی جذباتی انداز میں خطاب کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’30 ہزار طالب علموں میں سے کوئی ایک طالب علم، ایک ناکام طالب علم جو یونیورسٹی کی سختیاں برداشت نہ کر سکا، کلاس اٹینڈ نہیں کر سکا اور امتحانات پاس نہیں کر سکا۔ سات سال قبل فارغ ہو گیا، اگر آج وہ کسی سرگرمی میں شک کی بنیاد پر گرفتار ہوتا ہے تو کیا اس میں مادر علمی کے دودھ کا قصور ہے؟‘
شکیل فاروقی زمانہ طالب علمی میں جماعت اسلامی کی ذیلی جماعت جمعیت میں سرگرم رہے ہیں، انھوں نے میڈیا پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی یونیورسٹی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملے میں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم عبدالکریم سروش کا نام سامنے آیا ہے، جو مبینہ طور پر انصار الشریعہ تنظیم کا رکن بتایا گیا ہے۔
پاکستان کی نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہر سیاسی و مذہبی جماعت انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی جستجو میں ہے۔ شدت پسند گروہ اور تنظیمیں بھی ان زرخیز ذہنوں کو قابو میں کرنے کی خواہشمند ہیں۔
اس دہشت گردی کی زد میں ہمارا کیا بنے گا.کوئی تو بتا دے.

اپنا تبصرہ بھیجیں