رسولﷺ نے ہمیں قرآن پاک کے زریعے اندھیروں سے نکالا اور روشنی میں لائے .

رسولﷺ نے ہمیں قرآن پاک کے زریعے اندھیروں سے نکالا اور روشنی میں لائے .
4۔ سورہ الحدید ۔آیت نمبر 9۔پارہ نمبر 27
ترجمہ : ۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جو اپنے غلام پر واضح دلائل والی آیات نازل کرتا ہے ۔تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ
تم پر نہایت شفیق مہر بان ہے ۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو روشنی کہا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ میں ہی تو ہوں جو اپنے غلام یعنی رسولﷺ پر واضح دلائل والی آیات نازل کر تا ہوں۔ تاکہ ان آیات کے ذریعے تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ میں تم پر شفقت کرنے والا مہر بان ہوں ۔
خواتین و حضرات!
ان آیات میں آپ نے اللہ تعالیٰ کی محبت دیکھی اللہ تعالیٰ کی شفقت او ر مہربانی دیکھی کہ اس نے ہمارے لیے آیات بھیجیں ہیں تاکہ ہم اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آجائیں اور ہم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی شفقت اور مہربانی سے یہ سلوک کر رہے ہیں کہ صرف اس کو عربی میں پڑھتے ہیں اور بس سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا کیا ہم اندھیروں میں نہیں ہم نے اسے اردو میں سمجھ سمجھ کر روشنی میں آنا ہے کبھی اندھیرے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا جب کبھی ہم کمرے میں بیٹھے ہوں اور لائیٹ چلی جائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھی نظر نہیں آتا جب ایک دم لائٹ آتی ہے تو ہمیں روشنی میں ایک ایک چیز الگ الگ نظر آتی ہے قرآن پاک بھی اللہ تعالیٰ کی وہ روشنی ہے جس کو پانے کے بعد انسان کو ہر بات صاف صاف نظر آتی ہے وہ جان جاتا ہے کہ قرآن پاک سمجھنے سے پہلے وہ اندھیروں میں تھا ۔
خواتین و حضرات !
ان آیات سے بھی تعلیم کی اہمیت واضح ہو تی ہے کہ ایک تعلیم یافتہ انسان قرآن پاک کو اردو ترجمے کے ذریعے سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہو ئی روشنی میں آسکتا ہے ۔
5۔ سورۃ طلاق ۔آیت 11 ۔پارہ نمبر 28
ایک رسولﷺ جو تم کو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات پڑھ کر سناتا ہے تا کہ ایمان لانے والوں او ر نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے گا۔اللہ تعالیٰ اسے ایسی جنت میں داخل کریں گے جن میں نہریں بہتی ہوئی ہونگی یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۔بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کو بہترین رزق دیا ۔
خواتین و حضرات !
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو روشنی کہہ رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ رسولﷺ جو تم کو اللہ تعالیٰ کی صاف صاف آیات پڑھ کر سناتا ہے تا کہ ایمان لانے والوں او ر نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائے جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی جنت میں داخل کریں گے جن میں نہریں بہتی ہوئی ہونگی ۔
غور کریں کہ رسولﷺ ایمان لانے والوں یعنی قرآن پاک کو سچ ماننے والوں اور اس کی اطاعت کرنے والوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتے ہیں ۔
تا کہ وہ قرآن پاک کے ذریعے اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آجا ئیں اور اس روشنی میں وہ جو اعمال کرے گا وہ نیک اعمال ہو نگے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی روشنی میں ہو نگے اور ایسے ہی لوگوں کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں قرآن پاک کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی باتوں کو ماننے والے ان جنتوں میں رہیں گے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان
لوگوں کے لیے بڑی عزت والی روزی کا انتظام کیا ہوا ہے ۔
خواتین و حضرات!
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں
کہ ہم نے سو رج کو رو شن بنا یا ۔ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ وا قعی دن کتنا رو شن ہوتا ہے ۔ سو رج کی رو شنی میں ہر چیز صا ف نظرآتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ با ر با ر قرآن پاک کو رو شنی اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اس کی روشنی میں بھی ہر چیز صا ف نظر آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تعلیم سے بھی نوازے اور آنکھو ں سے بھی ۔تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی باتو ں کو سمجھ کر روشنی میںآ جائیں ۔
یہ مواد اس ویب سائیٹ سے لیا گیا ۔ www.whatisquranpak.com

اپنا تبصرہ بھیجیں