زمیں پہ بیٹھ کے ہم آسماں کا سوچتے ہیں

فیس بک پر ان اشعار کو میں نے پڑھا .مجھے بہت پسند آئے .آپ کو کیسے لگے.ضروربتانا…..ان اشعار میں میں ننےتھوڑی سی تبدیلی کی ہے.زرا بتایئں تبدیلی بہتر ہے یا ایویں ہے .

زمیں پہ بیٹھ کے ہم آسماں کا سوچتے ہیں
جہاں پہنچ نہیں سکتے، وہاں کا سوچتے ہیں
جو اپنے آپ سے غافل نہیں کسی لمحے
وہ ایک زندگیِ جاوداں کا سوچتے ہیں
جو اپنی بات پہ قائم، نہ اپنے وعدے پر
وہ خود غرض تو فقط اپنی جاں کا سوچتے ہیں
جو پست لوگ ہیں خود سے نکل نہیں پاتے
بڑے وہی ہیں جو سارے جہاں کا سوچتے ہیں
ہزار برق گرے اور آندھیاں آئیں
پرندے پھر بھی نئے آشیاں کا سوچتے ہیں
بکھر چکے ہیں تو کیا حوصلہ نہیں ہارے
چلو کہ بیٹھ کے اک کارواں کا سوچتے ہیں​
سعد اللہ شاہ​
جن اشعار میں میں نے تبدیلی کی ہے وہ اشعار یہ ہیں.
جو اپنے آپ کو جان نہیں سکے کبھی
وہ ایک زندگیِ جاوداں کا سوچتے ہیں
بکھر چکے ہیں تو کیا حوصلہ نہیں ہارے
چلو کہ بیٹھ کے اک مکان کا سوچتے ہیں​
ان تبدیلیوں کے بعد پوری نظم کو دوبارہ پیش کیا جاتا ہے دیکھیں کہ اب کیسے لگتا ہے.

زمیں پہ بیٹھ کے ہم آسماں کا سوچتے ہیں
جہاں پہنچ نہیں سکتے، وہاں کا سوچتے ہیں
جو اپنے آپ کو جان نہیں سکے کبھی
وہ ایک زندگیِ جاوداں کا سوچتے ہیں
جو اپنی بات پہ قائم، نہ اپنے وعدے پر
وہ خود غرض تو فقط اپنی جاں کا سوچتے ہیں
جو پست لوگ ہیں خود سے نکل نہیں پاتے
بڑے وہی ہیں جو سارے جہاں کا سوچتے ہیں
ہزار برق گرے اور آندھیاں آئیں
پرندے پھر بھی نئے آشیاں کا سوچتے ہیں
بکھر چکے ہیں تو کیا حوصلہ نہیں ہارے
چلو کہ بیٹھ کے اک مکان کا سوچتے ہیں
معزز قارئین
ہم نے اشعار کےبارے میں سوچااور اسے زرا ہم رنگ کرنے کی کوشش کی .اس لیے ہمارا شمار بھی اُن لوگوں میں ہے جو سارےجہاں کاسوچتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں