سجدے میں برا سوچنا

میرا اُس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں
لوگ سجدوں میں بھی لوگون کا برا سوچتے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں شاعرکہتا ہے کہ میں ایک ایسے بے ایمان شہر میں رہتا ہوں جہاں کے لوگ جب نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے بجائے کسی کے خلاف پلاننگ کر رہے ہوتے ہیں ۔حلانکہ سجدہ عاجزی کی علامت ہے اور بخشش مانگنے کی علامت ہے مگر وہ مجرم بن کر سجدہ کر رہے ہوتے ہیں۔یعنی ایک نیا جر م تیار کر رہے ہوتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں