سوال صرف یہ ہے.

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے کہا کہ میرٹ پر آئی ہیں اور بطور رکن اسمبلی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گی۔

ڈپٹی اسپیکر کی اجازت کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے نئے وزیراعظم خاقان عباسی کو مبارک دی تاہم اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین مسلسل احتجاج کرتے رہے تاہم عائشہ گلالئی نے اپنی تقریر جاری رکھی۔

عائشہ گلالی نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں ان کی تربیت کریں، جو گالیاں دینے کا ٹرینڈ بنایا گیا اس سے بچیں، نوجوان عزت اور غیرت کی اہمیت سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک پی ٹی آئی میں ہیں ٹھیک، جب چھوڑیں گالیاں دی جاتی ہیں، تحریک انصاف کے ارکان کو کہتی ہوں ان کے ساتھ بھی یہی ہو گا، میرے خاندان پر تہمتیں لگائی گئیں، قتل اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

عائشہ گلالئی نے خاتون اراکین اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ استحصال پر خاموش نہ رہیں، مجھے خود پر فخر ہے، میں حق بات کروں گی، جس ملک میں ماؤں اور بیٹیوں کی عزت کا ایشو اہم نا ہو تو وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے، ماؤں بیٹیوں کا تحفظ ارکان خواتین کا فرض ہےاور یہ ادا کیا۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے ، اسلام نے اندرونی صفائی کا بھی درس دیا ہے، کردار سب سے اہم ہوتا ہے، خاتون رکن ہوکر فرض ادا کردیا۔

سوال صرف یہ کہ
کیا جب بھی کوئی عورت کسی ادارے یا افسر کے خلاف بات کرے گی ۔اس کو گھر بٹھادیا جائیگا۔
تاکہ کبھی کسی عورت میں مرد کے خلاف بیان دینے کی ہمت ہی نہ ہو۔
جواب صرف یہ ہے۔ کہ
عائشہ گلا لائی اگر چار سال پہلے یہ انکشاف کرتی ۔تو اسے چارسال پہلے ہی گھر بٹھا دیا جاتا۔امید ہے کہ لوگوں کو عائشہ گلا لائی کی خاموشی سمجھ آگئی ہو گی۔جو حکمت پر مبنی تھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں