اس شعر کا مطلب کیا ہے

وہ کتابوں میں درج تھا ہی نہیں
جو پڑھایا سبق زمانے نے
تشریح
اس شعر میں شاعرکہتا ہے۔ کہ جب اُ س نے قرآن پا ک کو سمجھا تو وہ حیران رہ گیا۔کہ مولوی صاحبان کیا کیا تبلیغ کرتے ہیں ۔جو وہ کرتے ہیں ۔وہ تو قرآن پاک میں لکھا ہوا تھاہی نہیں ۔ اورنہ اس سے پہلی کتابوں میں درج تھا.جو درس وہ لوگوں کو دیتے رہتے ہیں۔اور جب اُس نے قرآن پاک کے بارے میں مولوی صاحبان سے پوچھا۔تو انہوں نے اسے قرآن کی تجوید یعنی شد اور مدبتانا شروع کر دیے۔
یا اس شعرکی تشریح یہ بھی ہو سکتی ہے ۔کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت والے دن شرک کے بارے میں پوچھیں گے ۔تو لوگ حیران رہ جائیں گے ۔ کہ ان کو تو شرک کے مطلب کا پتہ ہی نہیں ۔اور نہ جانے وہ کیا سبق یاد کرتے رہے ۔ گیارہویں اور بارہویں
کے ختم دلاتے رہے ۔حالانکہ شرط تو اللہ تعالیٰ نے صر ف شرک کی لگائی تھی ۔ اور تو تمام گناہ معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔معزز قارئین
جو تشریح میں نے کی ہے ۔کیا آپ اس شعر کی تشریح کی تائید کرتے ہیں یا تردید؟ ضرور لکھیں ۔صرف اتنا ہی کہ تائید یا تردید ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں