شیرآیا کی رَٹ چھوڑدیں

سی ،آئی ،بلیک وڈکہتے ہیں،کہ میں نے اپنی زندگی کے چالیس سال مسرت وشادمانی میں گزارے ۔میں اچھاکھاتاپیتااورصاحب جائیداد انسان تھا،اللہ پاک نے مجھے تین بچوں سے نوازہ تھا، دولڑکے جوان ہوچکے تھے اورتیسری لڑکی جس نے میٹرک کاامتحان پاس کیاتھا،میں اسے کالج میں داخلہ دلوانے والاتھاکہ امریکہ دوسری جنگ عظیم میں کودپڑا، اورمیرے لیے چھ مسائل پیداہوگئے۔،جن کامیری نظرمیں کوئی حل نہ تھامیں متواتراورمسلسل کڑھنے لگا،میری نیند اڑگئی اورراتیں کروٹ لیتے گزرتی ، مسائل ملاحظہ ہوں۔
۱۔ میں ایک پرائیویٹ کالج کاسربراہ تھا،میرے طلباء وطالبات کو ملازمتیں مل گئیں ،نئے طالب علم کالج کے بجائے جنگی ملازمتیں حاصل کرنے کوترجیح دینے لگے،کل کاروبارٹھپ ہوگیا۔
۲۔ میرے دونوں لڑکوں کولازمی لام بندی کی بناء پرجنگی محاذپرجاناپڑا،میں ان کی خیریت معلوم کرنے کے لئے ٹرپنے لگا۔
۳۔ شہرکے جس علاقہ میں آبائی مکان تھا،حکومت کے منصوبہ کے تحت وہاں ہوائی اڈہ بنانے کافیصلہ ہوگیا،تمام مکانات گرانے کاحکم کسی بھی وقت صادر ہوسکتاتھا،حکومت نے کوئی وعدہ نہ کیاکہ وہ مکینوں کودیگر علاقوں میں رہائشی مکانات دے کراپنے منصوبہ پرعمل پیراہوگی۔ سوال یہ ہے کہ میں اپنی بیوی اورجوان بچی کولے کرکہاں جاؤں گا۔
۴۔ ہمارے علاقے کاپانی خشک ہوگیاتھااس کاحل یہ تھاکہ میں اپنے ٹیوب ویل کومزید گہراکروں،میں ایساکرنے والاتھا،کہ اس محلہ پرہوائی اڈہ بنانے کاشاہی حکم سنادیاگیا،کیامیں چنددنوں کے آرام کے لئے ہزاروں ڈالرخرچ کرکے اورگہراکروں،اگریہ رقم بچاؤں تواس کے سواچارہ نہ تھا،کہ نزدیکی مکانوں سے بالٹیوں کے ذریعے پانی بھرناشروع کردوں۔
۵۔ جنگ کی وجہ سے ٹائروں کی راشن بندی ہوگی تھی ،قواعد کے مطابق مجھے ٹائرنہ مل سکتے تھے،میں سوچتا تھا،کہ اگرموجود ٹائرپھٹ گئے توموٹرگاڑی کی سہولت نہ رہے گی۔
۶۔ کالج بندہونے کی وجہ سے میری آمدنی کاکوئی ذریعہ نہ رہا۔اب لڑکی کو کالج میں کیسے داخلہ دلایاجائے اورگھرکی ضروریات کس طرح پوری کی جائیں۔
میں مسلسل اورمتواتر آنے والے خطرات پرسوچتارہتاتھا۔اورسوائے اپنے خون جلانے کے کچھ نہ کرسکتاتھا،ایک دن میں نے ٹائپ رائٹرلے کرتمام مسائل ٹائپ کرکے کاغذایک فائل میں لگادیا،اس کے بعدنام نہاد مسائل بھول گیا،وہ مسائل جوابھی پیدانہ ہوئے تھے،مگر میرے ذہن کے مطابق ضرورپیداہونے والے تھے۔مگر ہوا کیا۔
آپ بھی ملاحظہ کریں ۔
۱۔ جنگی مصالح کے پیش نظرحکومت نے مجھے کورس بھیج کرپوچھا،کہ آیامیں جنگ کے دوران نامزدکردہ نوجوان کوگراں قدرفیس پرپڑھاسکتاہوں ،یہ فیس میری قبل ازجنگ کی آمدنی سے زیادہ تھی ۔میں نے حامی بھرلی میراکالج کھل گیا، اورمہینے کے آخیر میں میری جیب نوٹوں سے بھرجاتی ۔
۲۔ مجھے لڑکوں کی خیریت کے باقاعدہ خطوط ملتے رہے ۔اورجنگ کے خاتمہ پر وہ فاتح کی حیثیت سے واپس آئے ۔
۳۔ میرے محلہ سے ذرا فاصلے پرپٹرول نکل آیا،اس لئے حکومت نے وہاں ہوائی اڈہ بنانے کاارادہ منسوخ کردیا۔
۴۔ میں نے پانچ سوڈالر کے خرچ سے اپنا ٹیوب ویل مزیدگہراکرلیااورپانی کاانتظام ہوگیا۔
۵۔ گھسے ہوئے ٹائروں کوازسرنواستعمال کی ترکیبیں معلوم ہوگئیں،مجھے نئے دلانے کے ٹائروں کی ضرورت نہ پڑی ،لڑکی کوکالج میں داخل کرادیاگیا،اس طرح گویا میں ہروقت ،شیرآیا۔۔۔ شیرآیا پکارتا رہا ، مگرشیرنہ آیا بلکہ شیرآنے کے امکانات ختم ہوگئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں