فا تحہ احسا س مرنے پر پڑھنی چاہیے.

مارے ملک کے مایہ ناز ا دیب اشفاق احمدخان کہتے ہیں ۔کہ فاتحہ لوگوں کے مرنے پر نہیں ۔ان کے احساس کے مرنے پر پڑھنی چاہیے ۔کیونکہ لوگ مر جائیں تو صبر آجاتا ہے ۔مگر احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے ۔
معزز قارئین
احسا س زندگی کا نام ہے ۔احسا س والا انسان دنیا کے ہر شعبے پر چھا جاتا ہے ۔احسا س کرنے والا انسان زندگی میں ایسا ضرورکوئی کارنامہ کرتا ہے ۔جسے دنیا مرنے کے بعد بھی یاد رکھتی ہے ۔کیونکہ احساس کرنے والا انسان اپنی ٹھوکروں سے سیکھ کر عظیم بن جاتا ہے ۔اسی لیے تو شاعر کہتا ہے ۔
احساس مر نہ جائے تو انسان کے لیے
کا فی ہے اک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں