محبوب اور شیطان

آنکھوں میں جب کبھی تصویر آپ کی آتی ہے ۔
استغفار پڑھ لیتا ہوں طبعیت سنبھل جاتی ہے ۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب ایک دن اُس کے محبوب نے اُسے شیطان کہا تو وہ سمجھ گیا۔کہ اُس
اُس کا محبوب خود ایک شیطان ہے ۔کیونکہ پنجابی میں ایک قول ہے کہ جیڑا کہندا اے اُوآپ ہی ہوندا اے ۔لہذا اب جب اُسے جب محبوب کی یاد آتی ہے ۔وہ استغفار پڑھ لیتا ہے ۔
معززقارئین
اس شعر میں دراصل شاعر یہ بتانے کی کوشش کرتاہے ۔کہ محبوب دراصل ایک شیطان کی طرح ہوتا ہے ۔لہذا جب کبھی محبوب کی یاد آئے۔ محبوب کو یاد کرنے کے بجائے استغفارکی تسبیح شروع کر دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں