مشرقی عورت کابے بس شعر

پروں سے باندھ کر پتھر مجھے اُڑاتا ہے ۔
عجیب شخص ہے ۔پھر وہ تالیان بجاتا ہے ۔
تشریح
اس شعر میں مشرقی عورت کی بے بسی دکھائی گئی ہے ۔کہ کیسے اُسے دین کے نام پر قید کر کے رکھا جاتا ہے اور پھر اُس سے غیرت والی زندگی کامطالبہ کیا جاتا ہے۔حالانکہ جب عورت اپنے پاؤں پر ہی کھڑی نہ ہو۔اس کے پاس پیسہ ہی نہ ہو۔اوپر تلے بچے ہوں۔ اُوپر سے مرد کوچار شادیوں کاتصوردیا گیا ہو۔ تو اسے عزت کون دے گا۔اس لیے مشرقی معاشرے میں بیٹی نہ ہونے کی دعا مانگی جاتی ہے ۔کیونکہ مشرقی عورت بھی ایک اپاہج کی طرح ہوتی ہے۔ایک فقیر کی طرح ہوتی ہے۔ ورنہ ماں باپ کے لیے بیٹی اور بیٹے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
خواتین وحضرات
کیا آپ اس خوبصورت شعر کے خالق کا نام بتا سکتے ہیں؟