مشرق اور مغرب کا تضاد

امریکا کی ایک عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھے گئے جب مسلمان باپ نے نوجوان بیٹے کے قتل کے سزا یافتہ مجرم کو معاف کردیا جس پر خاتون جج بھی اپنے آنسو پر قابو نہ رکھ سکیں۔

امریکا کی لیگزنگٹن کاؤنٹی کی ایک عدالت میں تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے شہری ڈاکٹر عبدالمنیم کے نوجوان بیٹے صلاح الدین کے قتل کا مقدمہ زیر سماعت تھا۔

عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے صلاح الدین کے قتل کے مجرم 31 سالہ سیام فام نوجوان ٹرے ریلفورڈ کو 31 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔
عدالت میں اس وقت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے جب ڈاکٹر عبدالمنیم جج کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد آگے بڑھے اور مختصر بات کرتے ہوئے مجرم کو مخاطب کیا اور کہا کہ میں تمھیں اپنے بیٹے کے قتل کا الزام نہیں دیتا بلکہ شیطان نے تمھیں یہ جرم کرنے پر مجبور کیا۔

ڈاکٹر عبدالمنیم نے کہا کہ ان کا 24 سالہ بیٹا بہت بہادر، شرمیلا اور ملنسار تھا لیکن اسلام میں معافی سب سے بڑا صدقہ ہے اس لئے میں بیٹے کے قاتل کو معاف کرتا ہوں۔

ڈاکٹر عبدالمنیم اپنی بات کہنے کے بعد آگے بڑھے اور مجرم کو گلے سے لگا لیا، یہ مناظر دیکھ کر کمرہ عدالت میں موجود افراد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، یہاں تک کہ خاتون جج بھی اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں اور سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی۔
تھوڑی دیر بعد کمرہ عدالت میں ٹرے ریلفورڈ کی والدہ کٹہرے میں آئیں اور کہا کہ ان کا بیٹا بہت اچھا بچہ تھا لیکن کم عمری میں نشے کی لت نے اسے خراب کیا۔

انہوں نے صلاح الدین کے قتل کی پوری ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوان کے قتل پر بے حد افسوس ہے اور ڈاکٹر عبدالمنیم کی جانب سے معاف کرنے نے انہیں حیران کردیا ہے۔

والدہ کے بعد ٹرے ریلفورڈ نے روسٹرم پر کھڑے ہو کر کہا کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں اور معاف کرنے پر ڈاکٹر عبدالمنیم کے شکر گزار ہیں۔

یادرہے کہ مقتول صلاح الدین پیزا ڈلیوری کے لئے ٹرے ریلفورڈ کے فلیٹ پر گیا تھا جہاں اس نے صلاح الدین کے پاس موجود رقم لوٹتے ہوئے چھریوں کے وار کر کے اسے قتل کردیا تھا۔
معزز قارئین
جہاں اتنی بڑی خبر نے بہت سارے لوگوں کی انکھوں کو نم کیا. اس کے مقابلے میں ایک ویڈیو نے ہمارا سر شرم سے جھکا دیا. جب ایک ویڈیو دکھائی گئی.جس میں ایک استاد صبح صبح سکول میں آنےوالے بچوں کی پٹائی کر رہا ہے اس کے مقابلے میں ایک مغربی سکول دکھایا گیا..جہاں صبح صبح بچوں کو لیڈی ٹٰیچر انوکھے طریقے سے ویل کم کر رہی ہے. اور بچوں کو گلے سے لگا رہی ہے .اس طرح سکول میں آنے والے بچوں کا استقبال ہو رہا ہے .اور بچے ایک عزت والے انداز میں اپنی آنے والی زندگی کی طرف بڑھ رہےہیں.اور ہمارے یہاں بچوں کو سزا کے خوف سے جھوٹ اور منافقت کے رویے پر ابھارہ جا رہا ہے .ایک سوال ہے کہ کیا جہاں سکولوں میں بچوں کا استقبال مار سے ہو.وہا ں بچوں سے کس قسم کی توقعات کی اُمید کی جاسکے گی اُمید ہے .میرے ساتھ ساتھ اس خبرنے بہت سارے لوگوں کی آنکھوں کو نم کر دیا ہے . اور شرمندہ بھی………….

اپنا تبصرہ بھیجیں