مصروفیت ، پریشا نی سے لڑنے کا طریقہ

ایک میاں بیوی کاجوان لڑکاپرل ہاربرکی تباہی سے ایک دن پیشترفوج میں بھرتی ہواتھا۔اس واقعہ نے خاتون مذکورہ کی نیند اُڑادی ۔انہیں اپنے لڑکے کاغم کھائے جاتاتھا۔وہ کہاں ہوگا۔کیاکام کررہاہوگا،کیااس پربم برس رہے ہوں گے ، وہ کون سی تکالیف سے دوچار ہوگا۔ آخر انہو ں نے غم غلط کرنے کے لئے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کا آغازکیا۔گھرکی نوکرانی کوجواب دے دیا ، ساراکام اپنے ہاتھوں سے کرنے لگیں ۔لیکن اس سے اس سے زرا فرق نہ پڑا۔ انہوں نے ایک سٹورکے سیلزڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کرلی ۔یہ سٹورکامعروف ترین حصہ تھا، وہ سارادن سوداسلف فروخت کرتیں ،گھرپہنچتیں تواس قدرتھک چکی ہوتیں کہ سیدھی جاکر بسترپرلیٹ جاتیں۔ اورنیند کی آغوش میں چلی جاتیں۔ کیساغم اورکیسی پریشانی۔ ان کے لئے تووقت ہی نہ تھا، لہٰذا وہ چاق وچوبند رہنے لگیں ۔
جارج برنا رڈشا کاقول ہے کہ ذہنی شکستگی اوربددلی محض اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ آپ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ میں خوش ہوں یاغمگین۔ اٹھیے کمرِہمت باندھیے۔ کچھ کیجئے۔ اورمصروف رہیئے ۔
اسی طرح مغربی دنیا کا جو زف ،اہل ریان کی زندگی میں چند معمولی واقعات پیش آئے ،جن سے وہ پریشان
ہو ا۔ اور اس پر بیماریوں نے حملہ کر دیا ،لیکن جب اس نے موت کی حقیقت کو تسلیم کیا۔ تو اس کا خوف نکل گیا اور پچھلی پریشانیاں بھی معمولی محسوس ہوئیں اس طرح وہ ذہنی دباؤ اعصابی کشمکش اور الجھن سے آزاد ہوا ،صحت پائی اور قلبی سکون بھی میسر ہوا ۔
جوزف اہل ریان جن کاذکر بھی ہوا۔ان کی زندگی کی گہرائی میں جاتے ہیں،وہ کہتے ہیں مجھے بعض مقدمات میں شامل تفتیش کرلیاگیاتھا۔عدالت میں میری گواہی نے مجھے ذہنی اوردماغی طورپر اس قدر پریشان کیاکہ گھرپہنچنے تک مجھے دل کادورہ پڑا،ڈاکٹرکے انجکشن لگانے کے باوجود میں بے ہوش ہوگیا۔جب ہوش آیاتوگھروالے پادری کوبلاچکے تھے۔ تاکہ میری مرگ کی آخری رسم اداکرے ،ڈاکٹروں نے مجھے اشاروں سے سمجھایاکہ چند منٹ کی باتیں جان لیواثابت ہوسکتی ہیں ۔میں نے گریہ زاری کرتی ہوئی بیوی جو مجھے سے دوباتیں کرناچاہتی
تھی، کے جذبات کورد کردیاگیا۔لبوں پرخاموشی کی مہرلگالی۔ میں نے آنکھیں موندلیں اورمرنے کے لئے تیارہوگیا، صورت حال دل کے دورے سے ہزاردرجے بہترتھی،میں اب سکون محسوس کرنے لگا،وقت آہستہ آہستہ گزررہاتھا،موت کافرشت کسی بھی وقت آسکتاتھالیکن میں پریشان نہ تھا،میں گذشتہ زندگی کوبھول چکاتھااورموت کااستقبال کررہاتھا۔
ایک گھنٹہ گزرگیا،موت نہ آئی،اورنہ دل کادرد لوٹا،میں نے سوچناشروع کیا،کہ کیانئی زندگی کاامکان ہے،اگرمجھے نئی زندگی مل جائے تومیں اپنے طریق کار،جذبات اورمصروفیات میں کون کون سے تبدیلی کروں گا،میں نے فیصلہ کیاکہ اب معمولی معمولی باتوں کوذہن میں نہ بٹھاؤں گاا۔وراس طرح اعصابی کشمکش میں مبتلانہ ہوں گا۔اورنہ معمولی باتوں پردوسروں سے الجھوں گا،اس واقعہ کوچارسال گزرگئے ہیں ،میں تندرست ہوچکاہوں ۔ڈاکٹر میری قلبی کیفیت کاگراف بناتے ہیں،اورحیران رہ جاتے ہیں میں اب نہ پریشان ہوتاہوں،اورنہ اعصابی کشمکش کاشکار۔یادرکھئے ،مجھے پربدترین واقعہ گذرچکاہے اس کے بعد نئی زندگی کاکون ساواقعہ مھے پریشان کرسکتاہے۔
اپنی آخرت کو بہتر اور اپنے سکون اور اپنے شعور کو قابو کرنے کا طریقہ یہ ہے۔ آپ جب بھی پریشان ہوں۔ قرآن پاک کھولیں اور اللہ تعالیٰ کی مرضی جاننے کی کوشش کریں ۔اس بات کو اپنی روٹین بنائیں ۔آپ کی زندگی سے تکلیفیں دور ہونا شروع ہو جائیں گی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ۔ جو قرآن پاک میں درج ہے۔ یہ آیات دیکھیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو نصیحت اور ہدایت دونوں ناموں سے پکارا ہے ۔
) سورہ طہٰ۔آیات116تا127۔پارہ 16
ور جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے اِسے سجدہ کیا مگر اُس نے حکم نہ مانا لہذا ہم نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے ۔یہ خیال رکھنا کہ وہ کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوادے ۔پھر تم مشقت میں پڑ جاؤ گے۔ یہاں تو تم نہ بھوکے رہتے ہو۔نہ ننگے رہتے ہو نہ پیاس لگتی ہے اور نہ دھوپ ،پھر شیطان نے آدم کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا ۔اے آدم میں تمہیں ایک درخت نہ بتاؤں جس سے ہمیشہ کی زندگی اور لازوال بادشاہی حاصل ہوتی ہے ۔آخر ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا جس سے ان کے ستر ان پرظاہر گئے۔ تو وہ جنت کے پتوں سے انہیں ڈھانکنے لگ گئے ۔اور آدم نے اپنے پرودگار کی نافرمانی کی لہذا وہ بھٹک گیا پھر ان کے پروردگار نے اُنہیں چن لیا ۔ ان کی توبہ قبول کی اور ہدایت دی۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ، تم دونوں سب یہاں سے اُتر جاؤ۔تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے توجوکوئی میری ہدایت کی اطاعت کرے گا وہ نہ تو گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف اٹھائے گا ۔ اور جو میری نصیحت یعنی کتاب سے منہ موڑے گا تو اُس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں تو آنکھوں والا تھا اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئیں تھیں تو تو نے اُنہیں بھلا دیا تھا۔ اِسی طرح آج تو بھی بھلا دیا جائے گا۔ اور جو بھی حد سے بڑھ جائے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے ہم اسے اسی طرح سزا دیں گے اور آخرت کا عذاب تو شدید اور باقی رہنے والا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں