مصروفیت پریشانی سے لڑنے کا طریقہ

مرکز تعلیم بالغاں کے ایک شاگر د کی سچی داستان پیش خدمت ہے ۔ان کی پانچ سالہ خوبصورت بچی فوت ہوئی ،تو میاں بیوی کی دنیا اندھیر ہو گئی ،تفکرات نے آن پکڑا لیکن بہت جلد انہیں معلوم ہو گیا ،کہ قدرت انہیں ایک اور بچے سے نواز نا چاہتی ہے ۔،دس ماہ کے اندر دوسر ی بچی پیدا ہوئی ،لیکن پانچ روز کی ہو کر وہ بھی چل بسی ،اب کی بار وہ تفکرات کے اتنے گہرے گڑھے میں گرے ،کہ بھوک ختم ہو گی ،راتوں کی نیند اڑ گئی ، دل کی دھڑکن تیز ہو گی اور ہر چیز سے نفرت ہو گی ، ڈاکٹر اس روگ کا کامیاب علاج نہ کر سکے ۔
خوش قسمتی سے ان کا ایک چار سالہ بیٹا تھا ا س نے ایک دن فرمائش کر دی کہ اسے لکڑی کی کشتی بنا کر دی جائے ، موصوف پریشان بیٹھے تھے ،انکار کر دیا مگر بچہ ضدی تھا ،تین گھنٹے کی محنت کے بعد کشتی بنوا کر ٹلا ،مگر یہ کیا ؟
موصوف نے تھکاوٹ، پژمردگی اور بد حالی کے بجائے اپنے آپ کو ہلکار اور مطمئن محسوس کیا ،انہوں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ جو اوقات انہوں نے کام میں خرچ کیے ۔غم کو ان کے دماغ سے نکال کر لے گئے ۔
انہوں نے اپنے گھر کی ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی فہرست بنائی جو مرمت طلب تھے،یہ دو سو چھیا لیس تھیں ۔دو ماہ تک وہ خود مرمت کر تے رہے ۔
کیساغم اور کیسی پریشانی ؟ اب وہ ایک نئے انسان تھے ۔دو ماہ بعد انہوں نے اپنی مصروفیت کی ایک طویل فہرست بنا ڈالی۔ جس میں مرکز تعلیم بالغاں کے کورس بھی شامل تھے ۔
مشہور وزیر اعظم مسٹر چرچل اور سیلف اسٹارٹ انجن کے موجد کیٹرنگ بہت مصروف انسان تھے ۔دونوں سے علیحدہ علیحدہ سوال کیا گیا کہ وہ اس مصروفیت کی وجہ سے پریشان تو نہیں ہو تے ۔دونوں کاجواب تھا۔
ہمارے پاس پریشان ہونے کیلئے وقت ہی نہیں۔ریسرچ سکالروں کاقول ہے کہ انہیں لیبارٹری میں سکون ملتاہے،حالانکہ وہاں مسلسل کام ہوتاہے۔جنگ عظیم کے بعدجب فوجی واپس اپنے وطن پہنچے ۔تووہ دماغی طورپرپریشان اوراضطراب کامرقع تھے ،ان میں اکثرراتوں کو چنگھا ڑتے اوربعض دن کے وقت عجیب وغریب حرکات کرتے ۔کبھی غم میں ڈوب جاتے ،اورکبھی بڑبڑاکرجاگ اٹھتے ، وہ جن ڈاکٹروں کے زیرعلاج رکھے گئے،ان کاکہناہے کہ ادویات نے انہیں اتنافائدہ نہیں دیا،جتنامصروف زندگی نے دیا۔ ایسے مریضوں کومچھلیاں پکڑنا، فٹبال اورگولف کھیلنے کشتی رانی کرنے تصویریں اتارنے اورباغبانی میں مصروف رکھاجاتھا، حتیٰ کہ وہ صحت یاب ہوگئے،علاج بذریعہ مصروفیت قدیم یونانیوں کی اصطلاح ہے ۔
بن فرینکلن کے دورمیں نیم حکیموں کوبھی ایک ابتدائی سا ذ ہنی شفاخانہ کامعائنہ کرایاگیا، توانہوں نے دیکھاکہ مریضوں سے سن کی رسی بٹنے کاکام لیاجارہاتھا۔ان بے چاروں سے کام نہ لوصاحب ۔ان کاپہلاجملہ تھا،لیکن جب انہیں بتایاگیا،کہ جن مریضوں کو مصروف رکھاجائے ،وہی مطمئن اورمصروف رہتے ہیں۔تووہ بات کی تہہ تک پہنچ گئے اوراپناجملہ واپس لے لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں