مولوی اور سپیکر

خادم حسین مجاہد حکایت رسالے میں لکھتا ہے ۔کہ اول اول مولوی سپیکر کے خلاف تھے ۔جب اس کی افادیت کا اندازہ ہو ا۔تو اس سے یوں چمٹے ۔کہ جیسے یہ ارکان ِ اسلام میں سے ہو۔
خادم حسین مجاہد کہتے ہیں ۔کہ دیہاتوں میں عوام کی اکثریت تو جاہل ہوتی ہی ہے ۔ان کے مولوی بھی جہالت میں پی ۔ایچ۔ ڈی ہوتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود اپنے پیٹ پر کبھی لات نہیں پڑنے دیتے ۔اور لاعلمی کے باوجود عوام کو اُلٹے سیدھے دلائل دے کر مطمئن کر دیتے ہیں۔اور عوام بڑی خوشی سے تقسیم ہو کر ان کے روزی روٹی کا وسیلہ بنے رہتے ہیں۔اور مختلف فرقوں کے مولوی مختلف ہونے کے باجود عوام کو بے وقوف بنانے میں پوری طرح متفق ہوتے ہیں ۔جیسے ہماری سیاسی پارٹیاں۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں