میرے پاس تیرے نام کی بلی ہے .

تیرا نام سرعام پکارنے کے لیے
تیرے نام کی بلی پال رکھی ہے
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے دل میں چھپے خیال کے حد شات کے بارے میں کہتا ہے ۔ کہ چونکہ وہ محبوبہ کو پکارنے کی ہمت نہیں رکھتا۔لہذا اس نے محبوبہ کے نام کی بلی پال رکھی ہے ۔اس طرح وہ بلی کو بار بار پکارتا ہے ۔اس طرح شاعر اپنے دل کو خوش کر لیتا ہے ۔ ا س لیے شاعر کہتا ہے کہ تونہ سہی ۔بلی ہی سہی ۔نام ہی لینا ہے ۔دل کو خوش ہی تو کرنا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں