میں تمھیں کبھی نظر انداز نہیں کروں گا.

ا نداز مجھے بھی آتے ہیں ۔نظرانداز کرنے کے بہت
لیکن تو بھی تکلیف سے گزرے۔ یہ مجھے گوارہ نہیں ۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب محبوب اُسے نظر انداز کرتا ہے ۔تو وہ ایسی کیفیات سے گزرتا ہے ۔جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے وہ یہ رویہ کبھی بھی اپنے محبوب پر نہیں آذمائے گا۔وہ نہیں چاہتا کہ جس طرح کے کرب سے شاعر کو گزرنا پڑتا ہے ۔اسی کرب سے محبوب بھی گزرے ۔
اس شعر کو میں نے فیس بک پر پڑھا.اس کی زراسی مرمت کی ہے .اور پیشکر دیا ہے .
کیا آپ بتاسکتے ہےں کہ مےں نے کیا مرمت کی ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں