نیکی کردریا میں ڈال

ایک امیرکبیرشخص تھا،اُس نے اپنے 34 ملازمین کوفی کس ساڑھے تین سو ڈالربونس دیا،مگروہ حیران اورپریشان رہ گیا.جب ایک نے بھی اس کاشکریہ ادانہ کیا۔وہ ملازمین کے اس رویہ کودل ودماغ میں جگہ دے بیٹھا۔یہ خیال اس کے لئے سوہانِ روح بن گیا۔وہ اس قدردل برداشتہ ہواکہ ہرفرد کویہ واقعہ سناتا،ملازمین کاکیابگڑا ۔وہ اپنی رقم لے کرچلتے بنے تھے۔ لیکن اس شخص نے زندگی بھرکاغم سمیٹ لیا۔دوسرے سے نیکی کرکے شکریہ کی تمناکرناغلط ہے،یہ کیابات ہوئی اگرنیکی کاصلہ شکریہ کی صورت میں نہ ملے تو اسے زندگی بھرکاروگ بنایاجائے اورایک مستقل خلش کودماغ میں جگہ بنالی جائے ۔شگاگوکے ایک شخص کی بات ہے وہ چالیس ڈالر فی ہفتہ پرمزدوری کیاکرتاتھا۔شادی کے لئے اسے کنواری لڑکی نہ ملی ایک بیوہ سے وہ ان حالات میں شادی کرسکا،کہ وہ اس کے سابقہ شوہر سے پیداشدہ دولڑکوں کوکالج میں تعلیم دلاتارہا،گوبیوہ کی طرف سے نکاح نامہ میں ایسی کوئی شرط نہ تھی لیکن وہ مروت میں بیوی کی بات نہ ٹال سکااورمقروض ہونے لگا جس دن بچے کالج سے فارغ ہوئے اورانہیں ملازمت ملی وہ خاصامقروض ہوچکاتھااس کنبہ کے جاننے والے یہ خیال کرتے تھے کہ لڑکے سوتیلے باپ کے شکرگزارہونگے اورملازم ہوتے ہی اس کاقرض چکادینگے لیکن انہوں نے نیکی کاکوئی صلہ نہ دیا،ان کی ماں ہرملنے والے سے کہتی کہ آخریہ نوجوانوں کے کھانے پینے کے دن ہیں سوتیلاباپ جس عمرکوپہنچ چکاہے۔ وہ قربانیوں اورسادگی کادورہے ۔
سوتیلے باپ کے لبوں پرمروت کی مہرلگی رہی۔ مگروہ نوجوان صاحبِ روزگار لڑ کے اوران کی ماں اپنافلسفہ بھگارتے رہے ۔سوتیلے باپ کے سامنے یہ اصول تھا،کہ نیکی کردریامیں ڈال ۔اگرہم اپنے دین پرغورکریں ،توہمیں یہ بات نظرآتی ہے دائیں ہاتھ سے اس طرح دو۔کہ بائیں ہاتھ کوپتہ نہ چلے۔ ہماردین ہمیں سکھاتا ہے کہ نیک عمل صرف اللہ کی رضاکے لئے کیاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں