ٹیکنا لوجی کا ماہر انجینیر دہشت گرد نکلا

معزز قارئین
ابھی ابھی بنوں تین دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی بھی خبر میڈیا پر آرہی ہے۔مگر اس کے ساتھ دوسری بڑی خبربہت ہی بُری ہے ۔اوربڑی ہی اہمیت کی حامل ہے .وہ یہ ہے کہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے ۔کہ پڑھے لکھے لوگ ہشت گردی میں ملوث پائے جارہے ہیں ۔ جس میں آج کراچی سے راؤ انوار کے انکشافات نے ہر پاکستانی کے دل دہلا دیے ہیں۔کیونکہ راؤ انوار کے مطابق ایک دہشت گرد انجینئرتھا۔جس نے ریموٹ کنٹرول کار بنا رکھی تھی ۔
سوال صرف اتنا ہے کہ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس کو اس طرح کی منفی سرگرمیوں میں استعمال کرنا سمجھ سے باہر ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی مدد غیبی طریقے سے کرے ۔اور ان دہشت گردوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکے آمین
آئیں ان دہشت گردوں سے متعلق راؤ انوار سے مزید انکشافات سنتے ہیں۔

راؤ انوار کے مطابق کراچی کے علاقے سچل میں خفیہ اطلاع پر حساس اداروں اور پولیس نے چھاپہ مارا اور علاقے میں موجود دہشت گردوں کے کمپاؤنڈ کا محاصرہ کیا۔

راؤ انوار نے بتایا کہ محاصرہ کرنے پر دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کردی اور اسی دوران علاقے سے کچھ دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

ایس ایس پی ملیر کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ کے بعد پولیس کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔

راؤ انوار کا کہنا تھا کہ دہشت گرد محرم الحرام کے دوران ہی کراچی میں دہشت گردی کی کارروائی کرنا چاہتے تھے جب کہ ان کے قبضے سے راکٹ، ایک موٹر سائیکل اور دیگر اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

’دہشت گردوں نے بغیر ڈرائیور چلنےوالی ریموٹ کار بنا رکھی تھی‘
راؤ انوار کے مطابق یہ گروپ فرقہ ورانہ اور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا جبک ہ انہوں نے بغیر ڈرائیور چلنےوالی ایک ریموٹ کار بنائی تھی۔

اس کار کو محرم کے دوران کسی جلوس یا کسی اور کارروائی کے لیے بھی استعمال کی جاسکتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں پر چار پانچ دنوں سے نظررکھی ہوئی تھی تاہم ان کے فرار ہونے کا خدشہ تھا اس لیے اچانک کارروائی کی گئی۔

’ہلاک دہشت گرد انجینیر تھا‘
راؤ انوار نے بتایا کہ ہلاک ایک دہشتگرد کی شناخت عامر شریف کے نام سے ہوئی ہے جو فیصل آباد کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے انجینیر تھا۔

ایس ایس پی ملیر کے مطابق عامر شریف ڈرون ٹیکنالوجی کا ماہر تھا اور اس نے بم نصب ریموٹ کنٹرول گاڑی بنا رکھی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اور ہلاک دہشت گرد کا تعلق سانحہ صفورہ کے ملزم سعد عزیز سے تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں