پھول یونہی نہیں کھل جاتے ساگر

پھول یونہی نہیں کھل جاتے ساگر
بیج کو دفن ہونا پڑتا ہے
تشریح
اس شعر میں شاعر کہتا ہے ۔کہ کسی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسان کو محنت کرنا پڑتی ہے ۔خاک ہونا پڑتا ہے۔ بیج بننا پڑتا ہے ۔دنیا کی ایجادات جن سے آج ہم مستفید ہو رہے ہیں ۔وہ لوگ بھی اگر بیج نہ بنتے ۔محنت نہ کرتے ۔تو آج ہمارے پس کچھ بھی نہ ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں