چھری مار بکرا کب چھری کے نیچے آ ئے گا.

چھری مارمجرم کی گرفتاری کے لیے گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں سادہ لباس خواتین اور مرد اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے اور پولیس نے ملزم سے مشابہ چند نئے خاکے بھی جاری کئے ہیں۔

دوسری جانب چھری مار کی گرفتاری میں ناکامی نے گلستان جوہر کی خواتین کو گھروں تک محدود کردیا جس کی وجہ سے بازاروں میں خواتین خریداروں کی تعداد خاصی کم ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشہ ماہ سے اب تک گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں خواتین کو چھری سے زخمی کرنے کے 13 واقعات ہوچکے ہیں لیکن اب تک پولیس ملزم کا سراغ لگانے سے قاصر ہے۔

اسی سلسلے میں گزشتہ روز نعمان نامی ایک ہسپتال پہنچا تھا جس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پر موٹر سائیکل سوار نے تیز دھار آلے سے حملہ کیا ہے۔
ایس ایس پی ایسٹ سمیع اللہ کے مبطاق گزشتہ روز گلستان جوہر میں زخمی ہونے والے شخص نے اپنا بیان تبدیل کیا ہے، لڑکے کے پولیس اور میڈیا کو دیے گئے بیان میں تضاد پایا جاتاہے۔

انہوں نے کہا کہ زخمی نعمان نے پولیس کوبیان میں راڈ سے زخمی کرنے کا بتایا جبکہ میڈیا کو بیان میں اس نے چھری سے زخمی کرنے کا بتایا۔

انہوں نے کہا کہ زخمی نوجوان سے مزید تفتیش کررہے ہیں جبکہ چھاپوں کے دوران مزید چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے

اسی سلسلے میں گزشتہ ہ نوں کراچی کے بعد گوجرانوالہ میں بھی خاتون پر چھری سے حملہ کرنے کی خبر ملی ہے.
اس واردات میں جناح روڈ پر موٹر سائیکل سوار ملزم نے چھری مار کر لڑکی کو زخمی کردیا اور باآسانی فرار ہوگیا۔

خاتون کو گھر کے باہر زخمی کیا گیا اور حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھا جس کے وار سے خاتون کو کمر پر زخم آیا ہے۔ واقعے کے بعد لڑکی کو طبی امدا کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہےکہ حملے کی زد میں آنے والی لڑکی نے پسند کی شادی تھی اور اس کا ایک بچہ بھی ہے اس لیے واقعے میں خاندانی رنجش کا ابھی امکان ہے تاہم واقعے کی ہر زاویئے سے تفتیش کی جائے گی .۔ اورہر پہلو کو مدنظر رکھا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں