کاش میں بیہوش ہی رہتا۔

وہ خود ہی لیے بیٹھے تھے آغوش توجہ میں
بے ہوش ہی اچھا تھا ناحق مجھے ہوش آیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کو بہت افسوس ہے جب اُس نے بے ہوشی کاڈرامہ کیا۔ جتنی دیر وہ بے ہوش رہا اُس کی محبوبہ کی توجہ اُس کی طرف رہی ۔مگر جیسے ہی اُس نے ہوش میں آنے کی اداکاری کی ۔محبوبہ نے پھر اسے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ بے ہوشی کی وجہ سے اس کی ساری توجہ مجھ پر مرکوز تھی جیسے ہی میں ہوش میں آیا ۔اس کی توجہ اور کاموں کی طرف ہوگئی ۔شاعر کہتا ہے کہ اے کاش میں
بے ہوش ہی رہتا ۔کم ازکم اُس کی توجہ تو میرے پے رہتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں