کمتر زندگی سے موازنہ

ایڈی رکن بیکر اُن خوش قسمت انسانوں میں سے تھا۔جوبحرالکاہل میں اکیس دن معمولی سی کشتی میں تڑپتے رہے۔اورآخر چنددنوں میں تومیٹھے پانی کے ایک گھونٹ کوترس گئے ۔ایڈی رکن بیکرکی زندگی بچ گئی ۔لیکن اکیس دن کی زندگی کی تمام تکالیف اس کے ذہن پرنقش ہوگی۔ اس سے پوچھاگیا۔باقی ماندہ زندگی میں تمہیں کیامطلوب ہے ۔’’جواب ملاتازہ پانی اورجی بھرکر سادہ کھانا ایک سارجنٹ کوشیل کاگولہ لگا،اسے خون کی سات بوتلیں دی گئی۔جب اسے ہوش آیاتومعلوم ہواکہ اس کی جان زندگی اورموت کے درمیان لٹک رہی ہے نہ معلوم کس کاپلڑابھاری ہوجائے۔ اگرفرض کیاجائے کہ اس کی جان بچ بھی جائے۔ تونامعلوم کون کون سے اعضائے بے کارہوجائیں گے۔ اورکون کون ساعمل متاثرہوگا۔وہ بول نہیں سکتاتھا۔اس نے لکھ کرڈاکٹرسے دوسوال پوچھے ’’کیاوہ زندہ رہے گا‘‘۔کیااس کے بولنے کی قوت برقراررہے گی۔ڈاکٹروں کاجواب تھا۔دونوں صورتیں برقراررہیں گی۔اس کی آنکھوں میں چمک پیداہوگی۔اس نے کاغذپے لکھاکہ مجھے اس سے زائد کسی چیزکی ضرورت نہیں ۔
ہیرلڈایبٹ ایک پرچون فروش تھا۔اچھی بھلی دوکان تھی ۔لیکن تجارت کے رنگ ڈھنگ نرالے ہوتے ہیں ۔ارزانی کی وجہ سے اسے گھاٹاپڑا۔دوکان کاسارامال بیچ ڈالا۔پھربھی نقصان کی تلافی نہ ہوئی وہ پریشان رہنے لگاایک دفعہ وہ شہرچلاگیاکچھ مدت بعدواپس آگیاتوہشاش بشاش تھا۔اس کے رنگ ڈھنگ سے معلوم ہوتاتھاکہ اس کے حالات بدل چکے ہیں ۔
اس کے دوست نے اس سے پوچھا۔سناؤآج کل کیسے گزررہی ہے ۔خوب بلکہ خوب تر دوست نے پوچھاپریشانیوں کاچکرکیسے ختم ہوا۔کہنے لگاصرف ایک واقعہ سے اوروہ بھی ایک منٹ میں ۔
دوست نے تفصیل پوچھی توہیرلڈایبٹ نے کہا کہ دوکان کامال فروخت کرنے کے بعدبھی وہ مقروض رہاقرض خواہوں سے چھٹکارا ضروری تھا۔دوسری چیزملازمت کی تلاش تھی ۔وہ اسی ادھیڑبن میں شہرکی طرف جارہاتھاجیب خالی پریشان حال مقروض وبے روزگارکون ساغم تھاجواس کونہ ستارہاتھاوہ اپنے آپ کوشہرکامظلوم ترین فردسمجھ رہاتھا۔چلتے چلتے وہ اچانک ایک گلی میں مڑا،اس چھوٹی سی گلی سے دوپہیے والی گاڑی پربیٹھاہواایسافرد سامنے آیا۔جوٹانگوں سے محروم تھا۔اورگاڑی کوایک لکڑی کی مددسے چلاتاتھا۔
اچانک آمناسامناہوا۔تولنگڑے شخص کے چہرے پررونق آگئی۔آنکھوں میں امیدوبیم کی روشنی تھی۔ وہ عزم وارادہ کاپتلامحسوس ہوا’’صبح کاسلام‘‘کہتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھایا۔ ہیر لڈایبٹ نے سلام کاجواب دیا۔مگرزندگی بھرکادرس ایک لمحے میں لے لیا۔مندرجہ بالا واقعات میں ایک قدرمشترک ہے ’’کمترزندگی سے موازنہ اوراحساس نعمت موجودہے ‘‘ ۔
ایڈی رکن بیکر نے کمترزندگی کی تلخیوں کاپہلے تجربہ کرلیاتھا۔اس کے لئے باقی ماندہ زندگی میں اگرروٹی پانی ملتارہتاہے ۔تواس کے لئے غنیمت تھا۔سارجنٹ نے اپنے آپ کوزندگی اورموت کے درمیان معلق محسوس کیابلکہ اسے زندگی کابھروسہ نہ رہا۔جب اسے زندگی اوربولنے کی صلاحیت درست رہنے کی ضمانت دی گئی تواس نے اس ضمانت کوموت سے بہتر سمجھ کرغنیمت جانا۔
آپ ایک قنوطی یاغریب آدمی کی دماغی سوچ کااندازہ کریں۔ان میں سے اکثر ہروقت اپنی بے مائیگی اورغریبی کاگلہ کرتے رہتے ہیں ۔ذراایک منٹ کے لئے سوچیں کہ ان کواللہ نے دوآنکھیں دی جب کہ لاکھوں انسان اس نعمت سے محروم ہیں ان کو دوہاتھ اوردوٹانگیں عطاکی ہیں ۔جب کہ ہزاروں افراد ان سے بھی محروم ہیں ،اگروہ اس گوشے میں نگاہ ڈالیں توان کومعلوم ہوا کہ لاکھوں افرادان سے کم ترجسمانی اورذہنی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔یہی تاک جھانک اوریہی نظر بازی آپ کی دنیابدل دے گی،اورآپ کوذہنی سکون کی دولت مل جائے گی۔
مسٹرپامرنے جنگ عظیم کے بعدموٹرگاڑیاں مرمت کرنے کی ورکشاپ قائم کی۔ پہلے پہلے کام خوب چلا۔فاضل پرزے ارزاں اوربکثرت ملتے تھے ۔اس لئے گاڑیوں کی مرمت میں خاصی بچت ہوجاتی۔زمانہ بدلاپرزے گراں بلکہ کمیاب ہوتے گئے ۔اتنی بچت نہ رہی۔ پامرنہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طورپر اتنامتاثرہوا۔ہروقت بڑابڑاتا،حکومت کی پالیسیوں پرتنقیدکرتا۔تھوک فروشوں کونشانہ بناتااورسب سے زیادہ اپنی قسمت کو کوستا،وہ ان لوگوں سے اپنامقابلہ کرتا،جنہوں نے ورکشاپ کاپچیدہ کام کھڑاکرنے کے بجائے سہل سے کام کئے تھے۔مگرہزاروں ڈالر کمارہے تھے۔ذہنی خلش یہاں تک پہنچی کہ وہ لوگ جن کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے پامراپنی پریشانیوں کی داستانیں سناتا تھا۔اس سے دوررہنے لگے وہ پریشان توتھاہی اب اسے غم کااظہارکرنے اوراپنادکھڑا سنانے کوآدمی نہ ملتا،اس طرح وہ مزید پریشان رہنے لگا،ورکشاپ میں مستریوں سے الجھتا،گاہکوں سے بحث کرتا۔اوردفاترمیں جاکر ہنگامہ کھڑاکردیتا۔
ایک دن وہ بہت ہی پریشان تھا۔اس کی ورکشاپ میں ایک ملازم تھا،ایک بازوسے محروم نصف چہرہ جھلساہوااورکمزورجسم کامالک ۔اس نے مسٹر پامر کوخطاب کرتے ہوئے کہا۔دیکھئے صاحب آپ صحت مندہیں روپے پیسے کی آپ کو فکرنہیں ،ہنر آپ کے ہاتھ میں ہے ،دوسری طرف مجھے دیکھئے ایک ہاتھ سے محروم ہوں ،چہرہ جھلساہوا،کمزوری اورخون کی کمی کا شکا ر پھر بھی اپنی قسمت پرشاکرہوں ،کہ اللہ نے میراایک ہاتھ توسلامت رکھا،میرادماغ درست سمت میں کام کررہاہے۔میں جسمانی کام کرسکتاہوں ،اوراپنے بیوی بچوں کاپیٹ پال رہا ہوں ۔ ایک آپ ہیں ۔کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پرہنگامہ کھڑاکئے رکھتے ہیں ۔یہ تسلیم ہے کہ ان دنوں پرزے کمیاب اورگراں ہیں ،کچھ دیربعد اورحالت بدل جائے گی۔بفرضِ محال ایسانہ بھی ہواتوآپ ورکشاپ کاسامان فروخت کرکے کوئی اورکام کرسکتے ہیں،ملازمت کرسکتے ہیں۔ آپ کے جسم کاایک ایک عضوصحیح کام کرتاہے مجھے دیکھئے یاان لوگوں کودیکھئے۔جو آپ سے کمتر وسائل اورصحت کے مالک ہیں اورکسی نہ کسی طرح زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں ۔پامر کوزندگی کادرس مل گیا۔زندگی بھرا س نے نہ صرف سکون اورصبر سے کام کیا،بلکہ جہاں تک ہوسکاغرباء کی مدد کی۔
مس یورگھیلڈڈاہل سابق پروفیسر صحافت وادب نے اپنی کتاب میں دیکھناچاہتی ہوں۔میں اپنی سوانح عمری لکھی ہے ۔اس کتاب کے آخری باب میں اس نے تحریر کیاہے کہ جوسکون اسے اپنے باورچی خانے میں پلیٹیں دھونے سے ملتاہے،اتنی طویل زندگی میں کسی مقام کسی آسامی اورکسی رتبہ پرحاصل نہیں ہوا۔
اپنی داستان تحریر کرتے ہوئے مس یورگھیلڈ نے لکھاہے کہ جب اس نے ہوش سنبھالا ، تو اپنے آپ کونیم اندھاپایا۔ایک آنکھ سراسرسپاٹ تھی،دیوار کی دیوار دوسری کے سامنے دھنداور اجالے کاوسیع غبار چھایارہتاتھا،البتہ ایک کونے سے کچھ نظرآتاتھا۔زندگی کی گا ڑی کھینچنے کے لیے اس نے اسے
رشتہ داروں اور عزیزوں کی پلیٹیں دھو نے کو ملیں ، اور پھر بھی دھڑ کا لگا رہتا تھا ، کہ کب پلیٹ ٹو ٹی اور عزیزہ کا پارہ گرم ہوا ۔
دوسرا وہم یہ تھا ، کہ اگر معمولی سار وزینہ بھی بند ہو گیا ۔ تو کیا ہوگا ، مکمل تا ریکی یکسر اندھا پن مس یور گھیلڈنے یہ خیال آتے ہی اپنے آپ کو خوش وخرم محسوس کیا ، اس کے دل میں ولولہ پیدا ہوا کہ کیوں نہ وہ اس روز ینے سے فا ئدہ اٹھا ئے ، اور تعلیم حا صل کر ے اس کے پاس بہت سا فالتو وقت تھا ، اس نے پڑھنا شروع کیا ، حتیٰ کہ صحا فت اور ادب میں ایم اے کی ڈگری حا صل کی ، اسے کا لج میں لیکچرار لے لیا گیا ۔
جب وہ باون سال کی ہو ئی۔ تو ایک ما ہرا مراض چشم نے ان کی آنکھ کا معا ئنہ کیا ، اور کیس امید افزاپا کرآپر یشن کر دیا ، ما ہرین کی رائے میں ان کی بصارت میں چا لیس گنا اضا فہ ہو گیا ، جس کے بل
بو تے پر پروفیسر کے عہد ے تک تر قی پا گئیں ۔ ریٹا ئر منٹ ملتے ہی وہ گھر لو ٹیں اور سید ھی اس باورچی
خا نے میں گئیں ، جہاں وہ کسی زما نے میں بر تن دھو یا کرتیں تھیں ۔ انہوں نے صابن کا جھا گ بنا یا۔ اس میں بر تن رکھے ، تو سینکڑوں گیند نما سفید بلبلے پیدا ہوئے ۔ جس میں قوس وقزح کے رنگ بھی نظر آتے تھے ۔ وہ بچوں کی طرح با ر بار بلبلوں سے کھیلتیں ، اور چھینٹے اڑاتیں پھر انہوں نے نہا یت سکون سے بر تن
دھو ئے ۔ اور عزیزوں رشتہ داروں کے رو کنے کے با وجود انہیں شیلف میں سجا دیا ۔ بر تن سجا نے کے بعد انھوں نے باورچی خا نے کی کھڑکی کھو لی ۔ تو ہلکی ہلکی بر فباری شروع ہو چکی تھی ۔ خا کستر پروں والے پر ند ے اپنی پناہ گاہوں کی طرف پرواز کر چکے تھے ۔
انہو ں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ کس طرح وہ ان تمام چیزوں کو دیکھنے پر قادر ہو ئیں جن کو وہ ایک روزینہ سے دیکھا کر تی تھی۔ اوراس پر بھی یہ خوف کھا ئے جا تا تھا ۔کہ کہیں یہ رو زینہ بھی بند نہ ہو جائے ۔وہ یہ سبق
حا صل کر چکی تھی کہ نیم اندھا پن اور بصارت سے مکمل محرومی کے ڈر سے سے کہیں یہ بہتر ہے ۔ کہ مکمل بصارت کے ساتھ جو کام میسر آئے کیا جا ئے ۔
اس با ب سے ہمیں دو سبق ملتے ہیں ۔
۱۔اپنے سے کمتر کی طرف دیکھو تا کہ تمہیں اپنی بہتر حا لت کا احساس ہو ، اور یہ چیز تمہیں سکون مہیا کر نے کا
با عث بنے ۔
۲۔اپنی تکا لیف اور پر یشا نیوں کے بجا ئے ان رحمتوں کا اندازہ کیجیے ، جو آپ پر بفضل تعالیٰ مرحمت ہو ئی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں