کوئی تیرا نام نہیں رکھ سکتا

ہمیں اچھا نہیں لگتا کوئی بھی ہم نام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تونام بھی تجھ سا رکھے
تشریح
اس شعر میں شاعر لڑنے مرنے پراُتر آیا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ جو اس کے محبوب کانام ہے ۔وہ کوئی اور نہ رکھے ۔یعنی وہ چاہتا ہے کہ اس کے محبوب کے نام کے جملہ حقوق بس ان کے ہوں اگر کوئی اور وہ نام رکھے تو اسے یہ بات عدالت میں ثابت کرنا پڑے گی کہ وہ نام کیوں رکھا۔شاعر کہتا ہے ۔کہ یہ نام وہی رکھ سکتا ہے ۔جس کا چہرہ سیم ٹو سیم اس کے محبوب جیسا ہو ۔ورنہ کوئی اس نام کو رکھنے کا مجاز نہیں۔اور اگر کوئی بھی یہ نام رکھے گا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔اس کے لیے ایک مثال دیکر اس بات کو سمجھایا جا سکتا ہے ۔کہ اگر کسی کی شکل ایشوریہ رائے جیسی نہ ہو تو وہ ایشوریہ رائے نام رکھنے کا اہل نہیں ہے چاہے وہ ایشوریہ کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔اُمید ہے کہ سمجھ آگئی ہو گی۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو سمجھ آئی تھی وہ بھی چلی گئی ہو ۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں