کچرے سے جو لاش ملی، وہ ھم سب کی بے حسی کی لاش ھے.

خبر میں کیوں تصویر فقط زینب کی ھے ؟
کچرے سے جو لاش ملی، ھم سب کی ھے

یہ جُملہ کہنے والوں پر لعنت ھو
صبر کریں، صاحب ! یہ مرضی رب کی ھے

گُڑیا کھیلنے والی گُڑیا پر حملہ ؟
یہ تعلیم بتاؤ کس مذھب کی ھے ؟

چہروں پر تو آج ھی ظاھر ھُوئی مگر
باطن پر یہ کالک جانے کب کی ھے

زینب کے گھر جا اور تصویریں کھنچوا
شہر کے حاکم ! خبر ترے مطلب کی ھے

میرے دیس میں صُبح کب آئے گی فارس ؟
گلی گلی مکرُوہ سیاھی شب کی ھے

رحمان فارس
فیس بک پر اس نظم کو پڑھا.آپ بھی پڑھلیں..انسانیت کی بے حسی کہانی .جہاں لوگ چاند پر جارہے ہیں .ہم کدھر جا رہے ہیں..

اپنا تبصرہ بھیجیں