کیا دھماکے کرنے والوں کو بیوٹی کویئن یعنی حوریں ملیں گی.

مسجد لرز گئی تھی ۔دھماکوں کے شور سے
حوروں کی آرزو نے کئی گھر جلا دیے
تشریح
اس شعر کے مطابق شاعرکہتا ہے ۔ کہ جن لوگوں کو ماڈرن لڑکیوں سے دنیا میں بہت نفرت ہوتی ہے ۔
اُنہیں حوروں سے بڑی محبت ہوتی ہے ۔حوروں کے لیے وہ مسجد جیسی جگہ کو بھی نہیں بخشتے ۔ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ لوگ کس کو پانے کی خاطر یہاں آئے ہیں ۔ کس کو راضی کرنے کے لیے آئے ہیں ۔ بس حوروں کے جنون میں اندھے ہو کر وہ کئی بچوں کو اور عورتوں کولاوراث کر دیتے ہیں ۔ یعنی کئی گھروں کو جلا دیتے ہیں ۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کارنامہ کر کے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حوروں کے ساتھ رنگ رلیاں منائیں گے ۔یا درکھیں کہ بے گناہ لوگوں کو مار کر آپ کسی بدنام کلب میں تو جا سکتے ہیں مگر جنت میں ہر گز نہیں جاسکتے ۔
کیا کسی کو قتل کرنے کی جزاحور ہے ۔یا موت
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس نے کس انسان کا قتل کیااس نے سارے جہاں کا قتل کیا۔
ہر انسان کا گھر اُس کی کائنات ہی تو ہوتا ہے ۔جب کوئی ایک انسان مرتا ہے ۔ توایک کا ئنات ہی تو تباہ وبرباد ہو جاتی ہے ۔جو اس انسان کا گھر ہوتا ہے ۔اور جہاں وہ مختلف قسم کے رشتوں سے بندھا ہوتا ہے
سارے ررشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور ایک پوری کائنات ہی لُٹ جاتی ہے ۔
میرا صرف ایک سوال ہے ۔کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد میں آئے تھے۔وہ جنت میں جائیں گے یاحوروں کی آرزو والے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنہوں نے نماز پڑھنے والوں کو نما ز پرھنے کی سزا دی۔جنہوں نے بازار میں کام کرنے والوں کو مزدوری کی سزا دی . ہسپتالوں میں تکلیفوں میں مبتلا لوگوں کو بیمار ہونےکی سزا دی.کیا صرف حوروں کے لیے.کیا اس طرح لوگوں کی زنددگیوں سے کھیلنے والوں کو حوریں ملیں گی.یا جہنم کی آگ…………

اپنا تبصرہ بھیجیں