ہیرا اکبرکون ہے .

ہیرا اکبرصوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ طالبہ کو انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے ایوارڈ کے لیے نامزد کرلیا گیا۔

یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کے بعد ہیرا اکبر دوسری پاکستانی طالبہ ہیں، جنہیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔

ہیرا اکبر اپنےعلاقے میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم ہیں اور ان کی بنیادی توجہ بچیوں کی گھریلو ملازمت، کم عمری کی شادیوں اور اسکولوں میں ہونے والے تشدد پر مرکوز ہے اور اسی بنیاد پر انہیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

ہیرا اکبر اپنےعلاقے میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم ہیں—ہیرا اکبر کہتی ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ایک تنظیم میں کام کرتی تھیں، ان کا کہنا تھا، ‘میں بچپن سے اپنے والد کو دیکھتی آرہی ہوں اور میں نے ان سے ہی یہ سب سیکھا ہے’۔

ہیرا کے والد محمد اکبر نے بتایا کہ جب انہیں ہیرا کی نامزدگی کی پہلی ای میل ملی تو انہیں بہت خوشی ہوئی کیونکہ اس ایوارڈ کے لیے 200 سے زائد لوگوں نے اپلائی کیا تھا لیکن نامزدگی صرف چند بچوں کو ملی، جن میں ہیرا بھی شامل ہے۔

محمد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہیرا کی نامزدگی صرف ان کے لیے نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے اعزاز کی بات ہے’۔

کڈز رائٹس فاﺅنڈیشن، ہالینڈ ہر سال دنیا بھر کے 55 ممالک سے 159 افراد کو بچوں کے حقوق کے لیے خدمات سرانجام دینے پر نامزد کرتی ہے اور ان میں سے 6 بچوں کو پھر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں