17ویں دن بھی دھرنا جاری ۔ ۔پولیس کے ساتھ جھڑپ

فیض آباد پر دھرنے کےباعث علاقے میں پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری موجود ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے دھرنے کے مقام پر کنٹینرز لگائے جارہے تھے کہ شرکا نے پولیس پر پتھراؤ کردیا جس کے نتیجے میں ایس ایس پی صدر عامر نیازی سمیت 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

شرکا کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کے بعد دھرنے کے مقام پر پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑیاں پہنچ گئی ہیں جب کہ فورسز کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا ختم کرانے کے لیے حکومت نے سرتوڑکوششیں کی ہیں جو اب تک کامیاب نہیں ہوسکی ہیں جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر بھی دھرنے کے شرکا نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

سپریم کورٹ نے دھرنے کا نوٹس لے کر سیکریٹری داخلہ اور دفاع سے رپورٹ طلب کررکھی ہے۔

دھرنا قائدین وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے پر بضد ہیں جس کے باعث حکومت اور دھرنا وفد میں اب تک مذاکرات کے کئی دور بے نتیجہ ثابت ہوچکے ہیں۔

دھرنے کی وجہ سے کئی اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو متبادل راستوں پر ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

اسکول و کالج جانے والے طلبا و طالبات کو طویل سفر طے کر کے اپنی منزل پر پہنچنا پڑتا ہے، اسی طرح دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین بھی شدید پریشان ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں