کوئی تیرا نام نہیں رکھ سکتا

ہمیں اچھا نہیں لگتا کوئی بھی ہم نام تیرا کوئی تجھ سا ہو تونام بھی تجھ سا رکھے تشریح اس شعر میں شاعر لڑنے مرنے پراُتر آیا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ جو اس کے محبوب کانام ہے ۔وہ کوئی اور نہ رکھے ۔یعنی وہ چاہتا ہے کہ اس کے محبوب کے نام کے جملہ مزید پڑھیں

آنکھیں اور آئینہ

ہم فنا ہو گئے اُن کی آنکھیں دیکھ کر نہ جانے وہ آئینہ کیسے دیکھتے ہوں گے تشریح اس شعر میں شاعر بڑا پریشان ہے ۔کیونکہ شاعر نے جب سے اپنے محبوب کو دیکھا ہے ۔شاعرکی نیند حرام ہو چکی ہے ۔کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتابس محبوب کی طرف دل لگا ہوا ہے ۔وہ مزید پڑھیں