طاہر القادری کا نیا پتلی تماشہ

طاہر القادری پاکستان آچکے ہیں اور ایک نئے پتلی تماشے کا اہتمام کرنے لگے ہیں ۔اس پتلی تماشے میں ساراکردار عورتوں کا ہوگا۔یعنی دھرنا سڑک پر صرف عورتیں دیں گی ۔یعنی جتنے دن مرشدکا حکم ہو گا۔یہ عورتیں سڑکوں پر رُلتی رہیں گی ،کیا قادری صاحب ان غریب لوگوں کے لیے دیت نہیں لے سکتے تھے ۔ ۔شایدان کی قسمت بدل جاتی۔مگر یہ لاشیں تو قادری صاحب نے اپنی سیاست کا رخ بدلنے کے لیے مہرہ بنا رکھی ہیں ۔اگر ان غریبوں کود یت مل جاتی تو پھر عورتوں کو کیسے گھروں سے باہر لایاجاتا۔ یہ وہ علماء کرائم ہیں ۔جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے عورتوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتے ۔مگراپنی سیاست چمکانے کے لیے یہ طریقہ جائز ہو جاتا ہے ۔ کہ ان کو سڑکوں پر زلیل و خوار کیا جائے ۔

طاہرالقادری نے کہا کہ جن کے لوگ مارے گئے ہیں وہ یہ جانا چاہتے ہیں کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں کیا تھا، آئین بھی ہمیں اطلاعات تک رسائی کا حق دیتا ہے لہٰذا جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ تین سال سے پبلک کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اسے کیوں سامنے نہیں لایا جاتا، اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عید الاضحیٰ کے پہلے ہفتے میں ہی غیر جانبدار بینچ بنایا جائے، یہ میری نہیں بلکہ شہدا کے یتیم بچوں اور بیواؤں کی درخواست ہے ، یہی درخواست لے کر شہدا کی بیواؤں اور بچیاں مال روڈ پر 16 اگست کو بیٹھیں گی اور مجھے ان سے اظہار یکجہتی کے لیے جانا پڑے گا۔

سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مال روڈ پر کب تک بیٹھیں گی اس کا کچھ پتا نہیں۔

واضح رہےکہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں پولیس کی فائرنگ سے تقریباً 14 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں