پتھر کا د ورکون سا ہے

تاریخ ہزاروں سال بس اتنی سی بدلی ہے ۔
و ہ دور تھا پتھر کا اب لوگ پتھر کے ہیں۔
تشریح
شاعر کہتا ہے ۔کہ پہلے دور میں چیزیں خالص تھی ۔اور کم کم تھی ۔ یعنی سہولیات کم تھیں۔مگر لوگ مخلص تھے
یعنی پتھر کادور تھا۔ یعنی لوگ پتھر رگڑ کر آگ جلاتے تھے ۔ لوگوں میں سوجھ بوجھ کم تھی ۔مگر مخلص لوگ تھے۔جبکہ موجودہ دور سہولیات کا دور ہے ۔قدم قدم پر سہولیات کا مہیا ہونا۔نیٹ کی وجہ سے دنیا کا ایک کونے سے دسرے کونے سے کنکشن ہونا۔موبائل کی وجہ سے سے اپنوں سے جڑے رہنا اس بات کی نشانی ہے ۔کہ یہ دور روشنیوں کا دور ہے ۔اور پہلا دور تاریکیوں کادور تھا۔انسان ہونے کے لحاظ سے صرف ایک بات کا جواب دیں ۔
پہلے زمانے میں کسی ایک بندے نے اپنی بیٹی کو زندہ درگور کیاتھا۔تو لوگ اس کی درندگی کو یاد کر کر کے برسوں روتے رہے ۔اور اُس دور کو تاریک کہا جاتا رہا۔ آج جسے روشن دور کہا جارہا ہے ۔عورتوں کا بری طرح استحصال ہو رہا ہے ۔کسی پر تیزاب پھینکا جا رہا ہے ۔ہزروں بچوں کے حمل گرائے جارہے ہیں۔کہیں بم پھٹ رہے ہیں ۔اور بم کے پھٹنے میں مرنے والے جانتے ہی نہیں کہ ان کو کس جرم میں مارا گیا۔کیابے قصور لڑکی جب قیامت والے دن پوچھے گی ۔کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا۔تو کیا بم دھماکے میں مارے جانے والے اللہ تعالیٰ سے نہیں پوچھیں گے ۔کہ انہیں کیوں مارا گیا۔ان کا جرم کیاتھا۔اپنے بچوں سے جدا کیاگیا ۔کیوں ان کے بچوں کو ساری زندگی رلایا گیا۔
ہمارے ننھے ننھے بچوں پر غلامی کا بدترین دور ہے ۔کیسے کیسے گھریلو ملازمین پر تشدد کیا جاتا ہے ۔ مجھے صرف ایک سوال کا جواب چاہیے ۔کہ یہ دور پتھر کا ہے یا وہ دور پتھر کا تھا۔ جب واقعات اِکادُکا تھے ۔اور اب بے شمار اور وہ بھی روز روز گھٹیا سے گھٹیا ترسامنے آرہے ہیں۔۔
Back to Conversion Tool

اپنا تبصرہ بھیجیں