ہم اللہ تعالیٰ کی پارٹی ہیں یا شیطان کی پارٹی ہیں.

یہ مواد اس ویب سائیٹ سے لیا گیا
۔ www.whatisquranpak.com
خواتین و حضرات:
اب میں آپ کے سامنے جن آیات کا ترجمہ پیش کرنا چاھتی ہوں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے لوگ دکھائے ہیں ۔ایک قسم اُن لوگوں کی ہے۔جو شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔اور دوسری قسم اُن لوگوں کی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ ہیں ۔اگر ہم ان آیات میں غور کریں گے۔ تو ہم بڑی آسانی سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔کہ ہم شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔یا اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔جب ہم سکول میں نظم یا نثر پڑھتے ہیں۔تو جسطرح نظم یا نثر کو سمجھنے کیلئے مشکل الفاظ کے نیچے نشان لگا دیتے ہیں ۔اور اس کے معنی یاد کر لیے جاتے ہیں ۔جس سے ہمیں نظم یا کہانی پوری سمجھ میں آجاتی ہے۔اسی طرح آج میں بھی اپنی آیات میں آنے والے مشکل الفاظ کے نیچے نشان لگاؤں گی ۔پھر قرآن پاک کی ڈکشنری سے اس کے معنی اور مطلب دکھاؤں گی ۔
تاکہ عبارت سمجھنے میں کسی قسم کا شک نہ رہے ا بہا م نہ رہے ۔اور قرآن پاک کی آیات ایک کہانی کی طرح ہم پر واضح ہوجائیں ۔
) سورہ المجادلہ آیات 18تا22 پارہ 28
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کوُ اٹھائے گا ۔تو یہ اُس کے سامنے بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے۔جیسے تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں ۔کہ اس طرح ان کا کچھ بن جائے گا ۔ یاد رکھو کہ بے شک یہی لوگ جھوٹے ہیں ۔ان پر شیطان نے قابو پالیا ہے۔ اُس نے اِن سے اللہ تعالیٰ کی نصیحت یعنی قرآن پاک بھلادیا ہے ۔یہی لوگ
شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں ۔ یاد رکھو کہ بے شک شیطان کی پارٹی کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ۔ یہی ذلیل ترین لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے لکھ رکھا ہے۔کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑا طاقت ور غالب ہے ۔
آپ اُن لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ایسا نہیں پائیں گے ۔
کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھیں ۔جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہوں۔ خواہ وہ ان کے باپ ہوں ۔خواہ بیٹے ہوں یا بھائی ہوں۔ یاان کے خاندان والے ہوں ۔یہ وہ لوگ ہیں ۔جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے۔اور ان کی مدد ایک روح کے ذریعے کی ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ جنتوں میں داخل کرے گا ۔جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا ۔اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ ہیں ۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی پارٹی ہی کامیاب ہونے والی ہے۔
خواتین و حضرات :
اب ہم تین نشان دہ مشکل الفاظ کا مطلب اور معنی قرآن پاک کی ڈکشنری سے معلوم کرتے ہیں تاکہ ٓآیات ہم پر ایک کہانی کی طرح واضح ہوجائیں۔
تین نشان زدہ مشکل الفاظ یہ ہیں ۔
(1) نصیحت
(2)ایمان
(3)روح
* سوال نمبر1۔ نصیحت کیسے کہتے ہیں ؟
جواب: سورہ حجر آیت 9 پارہ 14
بے شک ہم نے ہی نصیحت کو نازل کیا ہے۔اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔
خواتین و حضرات:
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو نصیحت کہہ رہیں ہیں ۔اور نصیحت کے نام سے پکار رہے ہیں ۔اس آیت سے ثابت ہوا کہ قرآن پاک کا ایک صفاتی نام نصیحت بھی ہے۔
* سوال نمبر 2۔ایمان کیسے کہتے ہیں ؟
جواب:سورہ شوریٰ آیات 52تا 53 پارہ 25
اور اسطرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپﷺ کی طرف وحی کی ۔اس سے پہلے آپﷺ نہیں جانتے تھے۔کہ کتاب اور ایمان کیا ہوتا ہے۔لیکن اس قرآن کو ہم نے روشنی بنا دیا ۔اس سے ہم اپنے غلاموں میں جیسے چاہتے ہیں ۔ہدایت دیتے ہیں ۔اور بے شک آپﷺ سید ھے راستے کی طرف ہدایت کرتے ہیں ۔اُس اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا مالک ہے۔یاد رکھو کہ سارے معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں۔
خواتین و حضرات :
انہی آیات میں غور کرتے ہیں کہ ایمان کیا ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔کہ قرآن پاک کی وحی سے پہلے آپ ﷺایمان کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے روح یعنی قرآن پاک کو روشنی بنا دیا ۔یعنی قرآن پاک کی تعلیمات کو روشنی بنا دیا ۔جس سے جانا کہ ایمان کیا ہوتا ہے اب ہم میں سے جو انسان ایمان کو جاننا چاہتا ہے وہ قرآن پاک کی روشنی یعنی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔ صرف قرآن پاک کی روشنی میں ہی جان سکتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور ایمان کیا ہوتا ہے۔ بے شک نبی ﷺسیدھے راستے کی طرف رہنمائی کررہے ہیں ۔اُس اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے۔
خواتین و حضرات :
آپ نے اِن آیات سے جانا ۔کہ قرآن پاک کی روشنی سے پہلے نبی ﷺ بھی ایمان کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔قرآن پاک کی تعلیمات کی روشنی میں جانا

۔کہ ایمان کیا ہوتا ہے۔کتاب کیا ہوتی ہے۔ایمان اور کتاب کے مطلب اور مقصد کو جانا۔ہم لوگ جو قرآن پاک کو بغیر سمجھے پڑھ رہیں ہیں۔ہمیں قرآن پاک کی روشنی کیسے نصیب ہوگی ۔ہم ایمان کو کیسے سمجھیں گے۔
ہم قرآن پاک کو سمجھے بغیرکتاب یعنی قرآن پاک کے نازل ہونے کے مقصد کو کیسے جانیں گے۔
ہم قرآن پاک کو سمجھے بغیر ایمان حاصل نہیں سکتے۔ان آیات سے ثابت ہوا ۔کہ قرآن پاک سے باہر ہمیں ایمان مل ہی نہیں سکتا ۔جب رسولﷺ نے اس قرآن پاک کے ذریعے ایمان کو جانا۔ تو ہم بھی اسی قرآن کے زریعے جانیں گے ۔ بیشک رسولﷺاسی سیدھے راستے یعنی قرآن پاک کی طرف رہنمائی کر تے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اسی قرآن پاک سے ہماری ہدایت کرتے ہیں ۔اور رسول ﷺبھی بالکل ٹھیک اسی سیدھے راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں ۔جو اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔
خواتین و حضرات:
آئیں ایمان کو سمجھنے کیلئے پھر قرآن پاک کی ڈکشنری سے رجوع کرتے ہیں ۔
سورہ محمد آیات 2تا3 پارہ 26
اور جو لوگ ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے ۔
اور ایمان لائے اُس پر جو محمدﷺ پر نازل ہوا ہے اور وہی اُن کے رب کی طرف سے سچ ہے ۔
اللہ تعالیٰ اِن کی برائیاں دور کردے گا اور ان کی حالت سنوار دے گا ۔یہ اس لیے ہو اکہ کافروں نے جھوٹ کی اطاعت کی ۔اور جو لوگ ایمان لائے۔انہوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے سچ کی اطاعت کی ۔اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کیلئے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے۔
خواتین و حضرات:
آپ نے دیکھا کہ قرآن پاک کی ڈکشنری سے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی یہ مثال پیش کی ۔کہ جو محمد ﷺپر نازل ہوا ہے۔یعنی قرآن پاک۔ اس کو سچ ماننے والااور اس کی اطاعت کرنے والا ایمان والا ہے۔آپ ان آیات میں غور کریں ۔ترجمہ کو باربار پڑھیں ۔ایمان کا مکمل جواب اور تفسیر موجود ہے ۔قیامت والے دن ایمان والوں کے گناہ اللہ تعالیٰ دور کرکے ان کی حالت درست کردے گا ۔
خواتین و حضرات:
آئیں قرآن پاک کی ڈکشنری سے تین ایک جیسی مثالوں سے ایمان کو سمجھتے ہیں۔
مثال نمبر 1:
سورہ انعام آیت نمبر 27پارہ 7
کاش آپ انہیں دیکھیں۔جب انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کیا جائے گا ۔تو وہ کہیں گے۔کیا ہی اچھا ہوتا ۔کہ ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔اور ہم اپنے رب کی آیات کو کبھی نہ جھٹلائیں ۔اور ایمان لانے والوں میں سے ہوجائیں۔
خواتین و حضرات:
آپ نے دیکھا کہ قرآن پاک کی ڈکشنری کے مطابق قیامت والے دن جہنمی پچھتائیں گے ۔ کہ کیا ہی اچھا ہو۔کہ ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔اور ہم اپنے رب کی آیات کو کبھی نہ جھٹلائیں ۔اور ایمان لانے والوں میں سے ہوجائیں۔یعنی قرآن پاک کو سچ ماننے والوں اوراس کی اطاعت کرنے والوں میں شامل ہوجائیں۔
مثال نمبر 2:
سورہ قصص آیت نمبر 47پارہ 20
اگر ایسا نہ ہوتا ۔کہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ۔پھروہ کہتے ۔اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی رسولﷺ کیوں نہ بھیجا ۔تاکہ ہم تیری آیات کی اطاعت کرتے ۔اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوجاتے۔
خواتین و حضرات:
آپ نے دیکھا کہ قرآن پاک کی ڈکشنری کے مطابق قرآن پاک کی اطاعت کرنا ایمان کہلاتا ہے ۔اور رسول کو بھیجنے کا مقصدلوگوں تک اللہ تعالیٰ کی آیات پہنچانا ہوتی ہیں ۔تاکہ وہ

ایمان والے بن جائیں ۔
مثال نمبر 3:
سورہ طہٰ آیت 134 پارہ 16
اور اگر ہم انہیں اس سے پہلے عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے۔اے ہمارے رب تونے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا ۔کہ ہم ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیری آیات کی اطاعت کرلیتے۔
خواتین و حضرات:
آپ نے دیکھا کہ قرآن پاک کی ڈکشنری کے مطابق قرآن پاک کی اطاعت کرنا ایمان کہلاتا ہے ۔اور رسول کو بھیجنے کا مقصدلوگوں تک اللہ تعالیٰ کی آیات پہنچانا ہوتی ہیں ۔ تاکہ ان آیات پر عمل کر کے قیامت والے دن وہ ذلیل وخوار ہونے سے بچ سکیں ۔
خواتین و حضرات :
ہم نے قرآن پاک کی ڈکشنری سے جانا۔کہ قرآن پاک کی آیات کو سچ سمجھنا اور اس کی اطاعت ایمان والا بناتی ہے۔ہم نے قرآن پاک کی ڈکشنری سے جانا۔تو پتہ چلا کہ صرف منہ سے کہہ دینا ۔کہ میں قرآن پاک کو مانتا ہوں یا مانتی ہوں ۔یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے ۔جب تک کہ اس سچ کو سمجھا نہ جائے ۔اور اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ورنہ ہم بھی ذلیل و خوار ہونے والے لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔ جہنم میں جاکر پچھتانے والے بن جائیں گے ۔ایمان کو سمجھنے کیلئے مثالوں پر باربار غور کریں۔
* سوال نمبر3 ۔روح کیسے کہتے ہیں ۔
جواب:سورہ شوریٰ آیت 52کا پہلا حصہ پارہ 25
اور اسطر ح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپﷺ کی طرف وحی کی ۔
خواتین و حضرات:
آپ نے دیکھا ۔کہ اللہ تعالیٰ وحی یعنی قرآن پاک کو روح کہہ رہے ہیں ۔یعنی قرآن پاک روح ہے۔یعنی قرآن پاک کا ایک صفاتی نام روح ہے۔
مثال نمبر 2 :
سورہ مومن آیت نمبر 15 پارہ 24
وہی بلنددرجوں والا عرش کامالک ہے وہ اپنے غلاموں میں سے جس پر چاہتا ہے ۔اپنے حکم سے روح نازل کردیتا ہے ۔تاکہ وہ لوگوں کو ملاقات کے دن سے خبردار کرے۔
خواتین و حضرات:
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی کو روح کہہ رہیں ہے۔یعنی قرآن پاک کاایک صفاتی نام روح ہے۔روح وحی کو کہتے ہیں ۔ہمارے پاس روح قرآن پاک کی شکل میں محفوظ ہے۔موجود ہے۔اور کسی رسول کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
مثال نمبر 3:
سورہ انحل آیت 2 پارہ نمبر 14
وہ اس روح کو اپنے فرشتوں کے ساتھ جس غلام پر چاہتا ہے ۔اپنے حکم سے نازل کردیتا ہے۔ کہ تم خبردار کردو۔کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ صرف مجھ سے ہی ڈرو۔
خواتین و حضرات:
ُآپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی کو روح کہہ رہیں ہیں اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ روح قرآن پاک کا صفاتی نام ہے۔
خواتین و حضرات:
آپ نے تین مشکل الفاظ کے مطلب قرآن پاک کی ڈکشنری سے دیکھے۔ کہ نصیحت بھی قرآن پاک کو کہتے ہیں روح بھی قرآن پاک کی تعلیمات کو کہتے ہیں۔اور ایمان کا مطلب محمد ﷺپر نازل ہونے والے قرآن پاک کو سچ سمجھنے اور اس کی اطاعت کرنے کے ہیں۔او راس طرح کی زندگی گزارنے والے کے اعمال ہی صالح عمل ہیں۔ایسے انسان کے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے اس کی حالت سنوار دی جائے گی ۔اب جب ہم نصیحت ایمان اور روح کے مطلب قرآن پاک کی ڈکشنری سے جان چکے ہیں ۔ توآئیں دوبارہ
سورہ المجادلہ کی 18تا22آیات کا ترجمہ سلیس اردو یعنی آسان اردو میں کرتے ہیں ۔تاکہ آیات ہماری سمجھ میں دو ٹوک آجائیں ۔
سلیس ترجمہ :
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا ۔تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسے ہی قسمیں کھائیں گے۔جسطرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں۔ اور وہ خیال کرتے ہیں۔کہ اسطرح ان کا کچھ بن جائے گا ۔یاد رکھوکہ یہی لوگ جھوٹے ہیں۔شیطان نےِ ان پر قابوپالیاہے۔اور ان سے اللہ تعالیٰ کی نصیحت یعنی قرآن پاک بھلا دیا ہے۔یہی لوگ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔یاد رکھو۔کہ شیطان کی پارٹی نقصا ن اٹھانے والی ہے ۔بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے لکھ رکھاہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔اور اللہ تعالیٰ زبردست طاقت ور ہے۔آپ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ایسا نہ پائیں گے۔کہ وہ اُن لوگوں سے محبت رکھیں ۔جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہوں ۔چاہے وہ ان کے باپ ہوں چاہے بیٹے ہوں ۔چاہے بھائی ہوں چاہے ان کے گھر والے ہوں ۔یہ وہ لوگ ہیں ۔جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ رکھا ہے ۔یعنی قرآن پاک کو سچ ماننے اور اس کی اطاعت کرنے والے ہوتے ہیں ۔اور ایک روح یعنی قرآن پاک کی تعلیمات کے ذریعے ان کی مدد کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا ۔جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ اِن سے راضی ہوا۔اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوجائیں گے۔یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔یاد رکھو۔بے شک اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ ہی کامیاب ہونیوالے ہیں ۔
* سوال نمبر 1:ان آیات میں کن لوگوں کو شیطان کی پارٹی کہا گیا ہے؟
جواب:شیطان کی پارٹی کے لوگ وہ ہیں۔جو قسمیں کھاتے ہیں۔اسیے لوگوں کو شیطان نے قرآن پاک بھلایا ہوا ہے۔یہی لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہیں۔اور یہی ذلیل ترین لوگ ہیں ۔یہی جھوٹے لوگ ہیں ۔ان کو شیطان نے قابو کیا ہوا ہے۔اور یہ شیطان کی پارٹی ہے۔اور شیطان کی پارٹی ہی نقصان اٹھانے والی ہے
*سوال نمبر2:ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ کو نسے ہیں ؟
جواب :اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ وہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے۔یعنی وہ قرآن پاک کو سچ مانتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کی مدد اللہ تعالیٰ نے روح یعنی قرآن پاک کے ذریعے کرتے ہیں۔یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو جائیں گے۔یہی لوگ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتے ۔چاہے۔وہ رشتہ داری میں ان کے کچھ بھی لگتے ہوں
*سوال نمبر3:ان آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے ر سول ﷺکی مخالفت کرنے والے کون سے لوگ ہیں؟
جواب:جن لوگوں کو شیطان نے نصیحت یعنی قرآن پاک بھلا رکھا رکھا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ تعالیٰ اور اُ سکے رسولﷺ کی مخالفت کرنے والے ہیں۔اور یہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں ۔اور یہ شیطان کی پارٹی ہے۔یعنی شیطان کا گروہ ہے۔اور جھوٹے لوگ ہیں۔قسمیں کھانے والے ہیں۔ان آیات سے ثابت ہوا ہے۔کہ نصیحت یعنی قرآن پاک کی اطاعت کرنے والے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنے والے ہیں اور یہ پارٹی اللہ تعالیٰ کی ہے۔اور اللہ تعالیٰ اپنی پارٹی کو کامیاب بنائے گا ۔
خواتین وحضرات
آپ نے دیکھا ۔کہ جن لوگوں کو شیطان نے نصیحت یعنی قرآن پاک بھلا رکھا رکھا ہے ۔وہ اللہ تعالیٰ اور ا سکے رسولﷺ کی مخالفت کرنے والے ہیں۔اگر نصیحت والے یعنی قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑنے والے ہوتے ۔تو یہ اطیع اللہ و اطیع الرسول تھا۔

یہ مواد اس ویب سائیٹ سے لیا گیا
۔ www.whatisquranpak.com

اپنا تبصرہ بھیجیں