وزیر اعظم نہ سہی . پارٹی کا صدر ہی سہی .

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں عوام فیصلہ کریں گے کہ اہل کون ہے اور نااہل کون اور امید ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔
اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں پارٹی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو سیاست سے بے د خل کرنے کی بار بار کوشش ہوتی رہی لیکن پارٹی کارکنان مجھے داخل کراتے رہے۔
نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف نے میرا راستہ روکنے کے لئے کالا قانون بنایا لیکن آج ڈکٹیٹر کا قانون اس کے منہ پر مار دیا ہے جس پر سیاسی جماعتوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے خلوص کےساتھ ملک کی خدمت کی، کوئی لالچ، ذاتی مفاد اور کسی قسم کا کوئی غلط کام نہیں کیا، مجھے نا اہل کیے جانے کی وجہ مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے نااہل کرنا ہی تھا تو صاف صاف بتا دیا جاتا کہ نواز شریف کے خلاف کوئی کرپشن اور بدعنوانی سامنے نہیں آئی، صرف اقامہ ملا جس کی بنیاد پر نااہل کر رہے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ وہ کیا اسباب تھے جن کے باعث ہم دوسرے ممالک سے پیچھے رہ گئے، یہ کھیل تماشا 70 سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے اور ہو رہا ہے، ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا اسباب تھے جس سے ہم دولخت ہوگئے اور ہم نے اتنے بڑے سانحے سے بھی کچھ نہیں سیکھا۔
انہوں نے کہا کہ جو قومیں پرانی روش پر اڑی رہتی ہیں وقت ان کا انتظار کیے بغیر آگے نکل جاتا ہے، مجھے عوام کی نمایندگی سے نااہل قرار دے دیا گیا اور اس جرم میں نااہل کیا گیا کہ میں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی۔
نواز شریف نے کہا کہ ملک میں 4 ڈکٹیٹروں نے آئین کا حلف لیا لیکن آمروں کے حلف اٹھانے والے صادق بھی رہے اور امین بھی، کاش کوئی نظریہ ضرورت عوام کے حق حکمرانیت اور ووٹ کی حرمت کے لئے بھی ایجاد کرلیا جاتا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملکی 70 سالہ تاریخ بتا رہی ہے کہ ہمارا مسئلہ کیا ہے، تاریخ بتارہی ہے کہ اس مسئلے نے ہمارا کیا حال کردیا، خبردار کر رہا ہوں کہ آج بھی اپنے آپ کو سنبھالنے اور حالات بدلنے کی کوشش نہ کی تو پاکستان ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا اور س مقصد کے لیے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دستور کے مطابق حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالی کی ہے اور زمین پر حق حاکمیت عوام کی امانت ہے، حکومت وہی کرے جسے عوام ووٹ دیں، اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے اور باہر جانے والے کی کنجی 20 کروڑ عوام کے پاس ہو۔
نواز شریف نے اپنی تقریر میں شعر سنایاجس کا دوسرامصرع کچھ یوں ہے
نااہل و کمینے کی خوشامد سے اگر، جنت بھی ملے تجھے تو قبول نہ کر’

اپنا تبصرہ بھیجیں